viagra cialis levitra

Urdu Autobiographies-Part 2

شکست ساغر، یونس ادیب، ستارہ پبلی کیشنز لاہور-1983

Rashid Ashraf – zest70pk@gmail.com

اردو حروف تہجی ذ سے ی تک

پہلے حصے کے لیے یہ لنک کارآمد ہے:

http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/

خود نوشت سوانح عمری/آپ بیتی اردو ادب کی اہم صنف ہے

بقول ڈاکٹر سید عبداللہ، آپ بیتی کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ کسی بڑے دعوے کے بغیر بے تکلف اور سادہ احوال زندگی پر مشتمل ہو۔
آل احمد سرور کہتے ہیں کہ آپ بیتی، جگ بیتی بھی ہوتی ہے کیونکہ ایک فرد
اپنے خاندان، ماحول، علمی اداروں، تحریکوں، شخصیات، تہذیبی، ادبی،
معاشرتی اور سیاسی حالات سے دوچار ہوتا ہے، ان سے بہت کچھ لیتا ہے اور شاید تھوڑا بہت انہیں دیتا بھی ہے

قدرت اللہ شہزاد (مولف: آپ بیتیوں کے توانا لہجے) کہتے ہیں: ” آپ بیتی
نام ہے واقعات کے مجموعے کا، واقعات جس قدر اہم اور انوکھے ہوں گے، آپ
بیتی اس قدر قابل مطالعہ ہوگی، نیز حسن بیان آپ بیتی کو چار چاند لگا
دیتا ہے اور یوں توانا لہجے پر ان کا اصرار بھی حسن بیان کی ایک صنف میں
نظر آتا ہے۔

یہ قدرے مختلف پہلو بھی ملاحظہ ہو کہ اس باب میں محمد حمید شاہد لکھتے ہیں:
مشفق خواجہ کی کہی ہوئی بات راستہ روک کر کھڑی ہو گئی ہے، صاحب وہ بھی عجب ڈھب کا آدمی تھا‘ آپ بیتی کی صنف کے بارے میں ماننے کو تیار ہی نہ تھا کہ اس میں سچ لکھا جا سکتا ہے ۔ ”سخن در سخن “ میں توایک جگہ صاف صاف لکھ دیا :
” آپ بیتی ایک عجیب و غریب صنف ادب ہے جس کا موضوع بظاہر تو لکھنے والے کی اپنی ذات ہوتی ہے لیکن بحث عموماً دوسروں کے کردار سے کی جاتی ہے ۔ آپ بیتی کو یادوں اور یادداشتوںکا مجموعہ کہا جاتا ہے لیکن آپ بیتی میں یادوں اور یادداشتوں کی ترمیم شدہ یا حسب منشا صورت ہی نظر آتی ہے ۔ حافظہ اول تو کام نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو مصنف کی مرضی کے مطابق مواد فراہم کرتا ہے “
ایک مشفق خواجہ ہی نہیں تھے جو یوں اس باب میں بدگمان تھے دوستوئیفسکی نے بھی notes from the undergroundمیں لگ بھگ یہی موقف اختیار کیا ‘اس کا کہنا تھا : ”سچ اور حقیقت پر مشتمل آپ بیتی لکھنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اپنی بات بڑھا چڑھا کر لکھنا انسانی سرشت کا حصہ ہے

اردو ادب کی اس اہم صنف پر مختلف النوع قسم کا تاحال جو کام (تجزیہ/تبصرہ/جائزہ/حوالہ/فہرست کتب وغیرہ) ہوا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے (یہاں درج ہونے سے رہ جانے والے مزید کسی بھی حوالے کے لیے پڑھنے والوں سے تعاون کی درخواست ہے، واقف ہوں تو اس صفحے کے آغاز میں دئے گئے پتے پر براہ کرم ای میل کردیں

تنقیدی جائزے – سید احتشام حسین – الہ آباد پبلشنگ ہاوس – 1951
اردو میں سوانح نگاری – ڈاکٹر سید شاہ علی – گلڈ پبلشنگ ہاوس لاہور- 1961
نقوش – آپ بیتی نمبر – دو حصوں میں – سن اشاعت: 1964
آپ بیتی نمبر – سہہ ماہی الزبیر – اردو اکادمی بہاولپور – 1964
وجہی سے عبدالحق تک – ڈاکٹر سید عبداللہ – مکتبہ خیابان ادب لاہور – 1977
فن اور شخصیت کا آپ بیتی نمبر – صابر دت بمبئی – سن اشاعت: 1980
اردو میں خودنوشت سوانح حیات – ڈاکٹر صبیحہ انور – نامی پریس لکھنؤ – 1982
اصناف ادب – ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی – سنگ میل پبلیکیشنز لاہور- 1983
اردو خودنوشت فن اور تجزیہ – ڈاکٹر وہاج الدین علوی – جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی – 1989
ماہنامہ شاعر بمبئی – از: افتخار امام تجزیہ خودنوشت –سن اشاعت: نامعلوم
خواب باقی ہیں – آل احمد سرور – فکشن ہاس لاہور – 1994
اردو سوانح نگاری آزادی کے بعد – ڈاکٹر حسن وقار گل – سن اشاعت: 1997
بیسویں صدی میں خودنشت سوانح عمری – مضمون – ڈاکٹر ندیم احمد – خدا بخش لائبریری جرنل – پٹنہ ، بہار، ہندوستان – جولائی 2002
اردو میں آپ بیتی – مضمون – ڈاکٹر سید عبداللہ – اردو ادب کی فنی تاریخ – الوقار پبلیکیشنز لاہور -  2003
آپ بیتی کے توانا لہجے – قدرت اللہ شہزاد – سن اشاعت: 2004
پس نوشت اور پس پس نوشت(ایک جلد میں)– ڈاکٹر پرویز پروازی–سن اشاعت: 2007
پس نوشت – سوم -  ڈاکٹر پرویز پروازی – سن اشاعت: 2010

اردو خودنوشت سوانح حیات آزادی کے بعد-ڈاکٹر محمد نوشاد عالم-2011

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی گراں قدر تصنیف ” جامعات میں اردو تحقیق” (2008-ہائر ایجوکیشن کمیشن، اسلام آباد) کے مطابق پاک و ہند کی جامعات میں اردو خودنوشتوں اور سوانح عمریوں  پر لکھے تحقیقی مقالوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

خودنوشت

اردو کی خودنوشت سوانح عمریاں۔پی ایچ ڈی۔ شیریں جمال۔پٹنہ۔1980۔نگران: محمد ذکی الحق

اردو میں خودنوشت سوانح حیات۔پی ایچ ڈی۔صبیحہ انور۔ لکھنو یونیورسٹی۔1982 ۔نگران: شبیہ الحسن نونہروی

اردو میں خودنوشت سوانح نگاری۔پی ایچ ڈی۔وہاج الدین علوی-جامعہ ملیہ دہلی۔1989

اردو میں آپ بیتی نگاری تحقیقی و تنقیدی جائزہ۔پی ایچ ڈی۔مجیب احمد قاضی۔امراوتی یونیورسٹی ہندوستان۔1990

اردو آپ بیتی کی تاریخ۔ آغاز سے 1947 تک۔ایم فل۔ محمد صفدر ادا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی-1992- نگران: طاہر تونسوی

اردو کی خودنوشت سوانح عمریاں۔ پی ایچ ڈی۔محمد جمیل احمد قادری۔ مظفر پور یونیورسٹی، ہندوستان۔2001۔نگران: ممتاز احمد خاں

خودنوشت سوانح عمری۔پی ایچ ڈی۔مجید یوسف زئی۔ اورنگ آباد یونیورسٹی۔2002۔نگران: عصمت جاوید

اردو آپ بیتی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔پی ایچ ڈی۔ محمد صفدر ادا۔ملتان۔2003۔ نگران: روبینہ ترین

پاکستان میں اہم آپ بیتیوں کی تاریخ کا تنقیدی جائزہ۔پی ایچ ڈی۔حمیرہ ماجد۔جی سی یو۔ 2003-نگران: سلیم اختر

اردو آپ بیتیوں میں سوانحی مواد کا تحقیقی و توضیحی جائزہ-ایم فل۔ انور علی۔پشاور یونیورسٹی-2006- نگران: صابر کلوروی

اردو خودنوشت سوانح حیات:آزادی کے بعد۔پی ایچ ڈی۔محمد نوشاد عالم۔2010- ہندوستان

اردو کی آپ بیتیوں اور شخصی یادداشتوں کا جائزہ۔پی ایچ ڈی۔رام دتا چرک۔جموں

زیر تحقیق

ملتان کے تین سیاستدانوں کی خودنوشتوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ.پی ایچ ڈی۔احمد زمان۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان-نگران: قاضی عابد

اردو ادب کی آپ بیتیاں-زیر تحقیق۔اطہر قسیم۔نمل یونیورسٹی، اسلام آباد ۔نگران: محمد آفتاب احمد

اردو کے تین فکشن نگارروں (سلیم اختر، رشید امجد، نثار عزیز بٹ) کی آپ بیتیوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔پی ایچ ڈی۔لبنی نصیر۔بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی، ملتان۔ نگران: عبدالرؤف شیخ

پاکستان میں اردو کی خواتین آپ بیتیاں (1947 تا 2002)۔پی ایچ ڈی۔فرزانہ خاتون۔زیر تحقیق۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی۔نگران: شاہین مفتی

اردو میں خودنوشت سوانح نگاری: 1947 کے بعد۔پی ایچ ڈی۔زیر تحقیق۔صدف فاطمہ۔علی گڑھ یونیورسٹی۔نگران: شہاب الدین ثاقب

اردو آپ بیتیوں میں خرق عادات واقعات۔پی ایچ ڈی۔سلمان علی۔زیر تحقیق۔قرطبہ یونیورسٹی۔نگران: صابر کلوروی

سوانح عمری

اردو سوانح نگاری کا ارتقاء۔پی ایچ ڈی۔شاہ علی۔لکھنؤ۔1952-نگران: عبدالقادر سروریبہار میں اردو سوانح نگاری کا آغاز و ارتقاء۔پی ایچ ڈی۔عبدالواسع۔مظفر پور، ہندوستان-1969اردو میں سوانح نگاری کا تنقیدی مطالعہ۔پی ایچ ڈی۔کلثوم بانو۔ اودے پور، ہندوستان۔ نگران: ثاقب رضوی

اردو میں فن سوانح نگاری: 1914 تا 1975۔۔پی ایچ ڈی۔ممتاز فاخرہ۔ دہلی-1982۔نگران: فضل الحق

اردو سوانح نگاری آزادی ےک بعد۔پی ایچ ڈی۔حسن وقار گل۔جامعہ کراچی۔1995-نگران: شاہ علی


شاہانہ مریم کی کتاب “ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق” (2011، دہلی) سے چند اہم معلومات ذیل میں درج کی جارہی ہیں:

اردو سوانح نگاری کا تنقیدی مطالعہ، ڈاکٹر کلثوم بانو، موہن لال سکھ دیا اودے پور یونیورسٹی-2008
بہار میں اردو سوانح نگاری کا آغآز  ارتقاء، ڈاکٹر عبدالواسع، بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، مظفر پور، بہار-1969
اردو میں خواتین کی خودنوشت سوانح عمریاں، ڈاکٹر شبانہ سلیم، برکت اللہ بھوپال یونیورسٹی-2007
اردو کی آپ بیتیوں اور شخصی یادداشتوں کا جائزہ، ڈاکٹر رام دتا چرک، جموں یونیورسٹی
اردو میں آپ بیتی کی روایت، محمد وقار خان، جواہر لال نہرو یونیورسٹی
دہلی-2006
دہلی میں اردو سوانح نگاری کی روایت، ڈاکٹر محمد فیروز عالم۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی-1994
اردو خودنوشت نگاری کا معاشرتی زندگی کی طرف رویہ آزادی کے بعد، ڈاکٹر محمد ہارون راشد،  جواہر لال نہرو یونیورسٹی-1999
اردو سوانحی ناولوں میں شخصیات کے اظہار کی نوعیت، ڈاکٹر محمد علی اصغر، جواہر لال نہرو یونیورسٹی-2009
اردو ادب میں سوانح نگاری، ڈاکٹر قاضی عبدالہادی،رانچی یونیورسٹی-1989
اردو میں آپ بیتی تحقیقی و تنقیدی جائزہ، ڈاکٹر خواجہ محمد مجیب احمد قاضی، سنت گاڑگے بابا امراوتی یونیورسٹی۔1990
اردو کے چند منتخب اہل قلم کی کودنوشت سوانح عمریاں آزادی کے بعد، نزہت یاسمین خان، ناگپور یونیورسٹی

احباب سے درخواست ہے کہ اگر ان کے پاس ایسی کوئی خودنوشت ہو جسے وہ ان دونوں فولڈرز میں موجود نہ پائیں تو براہ کرم اس کا سرورق ، مصنف و ناشر کا نام اور سن اشاعت مندرجہ بالا ای میل پتے پر ارسال کردیں، اسے آپ کے نام و شکریے کے ساتھ شامل کردیا جائے گا

خیر اندیش
راشد اشرف