uk online pharmacy

Ibne Safi-Kal, Ajj Aur Kaal-3 October 2015-Karachi

Rashid Ashraf – zest70pk@gmail.com


ابن‌ صفی-کل آج اور کل

کراچی آرٹس کونسل

تین اکتوبر 2015


ابن صفی کے ناول بدلتے موسموں کی یادمیں ڈھل گئے۔علامہ ضمیر اخترنقوی
70کی دہائی میں افغانستان میں ابن صفی کی شہرت اپنے عروج پر تھی۔پروفیسر سحر انصاری
ہم بہن بھائی صرف ان کی اولاد ہی نہیں پرستاربھی تھے۔احمد صفی

(خرم سہیل)3اکتوبر2015،بروزہفتہ

آرٹس کونسل آف پاکستان،کراچی میں اردوزبان کے معروف ادیب ”ابن صفی“کی یاد میں ایک تقریب کا انعقادہوا،جس میں شعروادب سے تعلق رکھنی والی شخصیات اورحاضرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس تقریب کاعنوان”ابن صفی۔کل بھی ۔اورآج بھی“تھا۔اس کی صدارت پروفیسر سحرانصاری نے کی،جبکہ مہمان خصوصی ابن صفی کے صاحب زادے احمد صفی تھے،جو اس تقریب کے لیے خاص طورپر لاہورسے تشریف لائے۔تعارفی کلمات اس تقریب کے منتظم اورمعروف صحافی،ناشر اورمترجم رشید بٹ نے اداکیے۔مقررین میں معروف مذہبی دانشورعلامہ ضمیر اخترنقوی،ابن صفی کے ہم عصرناول نگارایچ اقبال،نوجوان دانشور اورابن صفی کی ایک کتاب کے مدون راشد اشرف تھے۔اسی موقع پر ابن صفی پر شبنم امان نے ”ابن صفی بحیثیت شاعر“مقالہ بھی پڑھا۔اظہار تشکر راشد جمال نے کیاجبکہ تقریب کی نظامت براڈ کاسٹر اورمحقق علی حسن ساجد نے کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ضمیراخترنقوی نے کہا۔”ہم نے اپنے بچپن میں ابن صفی کے ناول ہرایک کے ہاتھ میں دیکھے،اس لیے توجہ اس طرف مبذول ہوئی اورہم نے انہیں پڑھا۔ان کے ناولوں میں آسان اورعام فہم اردو کااستعمال تو عام ہی تھا،لیکن ا ن کے ناولوں کوپڑھ کر انگریزی کے الفاظ بھی سیکھنے کو ملے۔ان کے ناولوں میں ایک دوسری ہی دنیا تھی،جس کی وہ سیر کروایاکرتے تھے۔ابن صفی کے ناول بدلتے موسموں کی یادبن گئے،جن موسموں میں یہ ناول پڑھے تھے،اب جب وہ موسم آتے ہیں،توابن صفی کی یاد بھی آتی ہے۔“

ایچ اقبال نے کہا۔”وہ میرے ہم عصر تھے،اس کے باوجود میں نے کبھی ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔وہ جب کچھ عرصہ بیمار رہے،تومیں نے جاسوسی ادب میں ان کے ناول لکھے،جن کو انہوں نے بے حد پسند کیااورجب وہ صحت یاب ہوئے توانہوں نے مجھ سے کہا کہ میں اسی انداز میں لکھتارہوں،مگر میں نے پھر اس طرح نہیں لکھا۔میں ان کے کرداروں کو نقل کرنے کی بجائے انہیں زندہ رکھنے کی کوشش کی۔“اس موقع پر شبنم امان نے مقالہ پڑھا،جس میں انہوں نے ابن صفی کوبطور شاعر بیان کیا۔ان کے خیال میں”شاعری میں جو ابن صفی نظر آتے ہیں ، وہ ناول نگار ابن صفی سے بالکل مختلف ہیں۔ان کے ہاں شاعری کے مضامین دل کو چھولینے والے تھے،ان کی شاعری پر جوش ،مجاز اورفیض کے اثرات واضح طورپر دیکھے جاسکتے ہیں،ان کی شاعری میں حسن وجمال بھی نمایاں تھا۔“

احمد صفی نے بچپن کی یادیں حاضرین کوبتاتے ہوئے کچھ یوں اظہار خیال کیا”ہم سب بہن بھائی صرف ان کی اولاد نہیں بلکہ پرستاربھی تھے۔جب بھی ان کانیا ناول چھپ کر آتاتھا،ہمیں بھی عام قارئین کی طرح تجسس ہوتاتھا،کسی طرح اس کو پڑھ ڈالیں،مگر ابو بھی انصاف کے دھنی تھے،وہ جب تک ہمیں اپنا نیا ناول پڑھنے کو نہ دیتے،جب تک وہ عام قاری کے لیے بازار میں دستیاب نہ ہوجاتا۔میں نے عہد حاضر میں بھی دیکھا،ان کے چاہنے والوں کی دنیا دوحصوں میں بٹ جاتی ہے،کچھ ان کے ناولوں کے کردار عمران کے مداح ہوتے ہیں اورکچھ فریدی کے چاہنے والے،ان دونوں کرداروں کے ذریعے ابن صفی کے کام کے متعلق اعلیٰ جذبات کامیں خود شاہد ہوں،کس طرح قارئین اور ان کے چاہنے والے ابو کو پسند کرتے ہیں ،آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں،ان میں سے کئی اس تقریب میں بھی موجود ہیں۔تقریب کے صدر پروفیسر سحر انصاری نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا۔”ابن صفی کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ،جس کی ایک مثال میرے سامنے یوں ہے،جب میں 1971میں افغانستان گیا،تووہاں کئی شہروں میں جانے کااتفاق ہوا،میں نے وہاں لوگوں کو ابن صفی کے ناول پڑھتے دیکھا،جبکہ ان کی زبان اردو نہ تھی،مگر کوئی کشش تھی،جس کے زیراثر وہ ابن صفی کے مداح ہوگئے تھے۔اردو ادب میں تخلیق ہونے والے کئی معروف کرداروں کے خالق ابن صفی ہیں،جس کی بدولت وہ ادبی تاریخ میں زندہ رہیں گے۔“

اس موقع پر تقریب میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی،جن میں ان کے قارئین بھی شامل تھے۔یہ تقریب کراچی آرٹس کونسل،نجی موبائل کمپنی اوررب پبلشرز کراچی کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی،جس کاانتظام رشید بٹ نے کیاتھا۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں اورحاضرین محفل کے لیے عشائیے کابھی اہتمام تھا۔

Rashid Ashraf

Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.