uk online pharmacy

Ibne Safi-Kehti Hai Tujh Ko Khalq E Khuda Ghaibana Kya-June 2012

Rashid Ashraf: zest70pk@gmail.com

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کيا
مرتب و مولف: راشد اشرف

کتاب پر بی بی سی کی رپورٹ:

http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/09/120915_book_review_ibn_e_safi_tim.shtml

یہ کتاب جناب ابن صفی پر 1972 سے 2012 کے درمياني عرصے ميں لکھے گئے مشاہير ادب کے مضامين کے انتخاب پر مبني کتاب پرسوں شائع ہوئی۔ کراچي کے اردو بازار ميں واقع ويلکم بک پورٹ اور فضلی سنز پر دستياب ہے۔ کتاب کا سرورق، عقبي کور، فہرست مضامين شامل ہيں۔ ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدير خان صاحب، جناب رضا علی عابدي اور ڈاکٹر معين الدين عقيل صاحب کے تبصرے بھي زير نظر پوسٹ کے ہمراہ منسلک ہيں۔

کتاب کی تعارف تقریب جناب عقیل عباس جعفری کی سرپرستی میں حلقہ ارباب ذوق کراچی آرٹس کونسل میں 15 جولائی 2012 کو منعقد کی گئی۔ روزنامہ امت کی رپورٹ بھی شامل کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ جناب ابن صفی کی برسی کے موقع پر کتاب پر جناب امجد اسلام امجد کا 26 جولائی 2012 کو روزنامی ایکسپریس لاہور میں شائع ہونے والا تعارفی کالم بھی زیر نظر فولڈر میں شامل کیا گیا گیا۔

حضرت علامہ طالب جوہری کی ابن صفی کے ہمراہ ایک یادگار تصویر کتاب میں شامل ہے۔ اسی سلسلے میں علامہ صاحب سے 27 جولائی، 2012 کو ایک ملاقات میں محفوظ کی گئی چند تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

قيمت: 500 – رعايت: 33 فيصد
صفحات: 384 – ابن صفی کی چند یادگار تصاویر کے ہمراہ
ناشر: بزم تخليق ادب، کراچي
پوسٹ بکس نمبر 17667
کراچي-75300
اي ميل: maerajjami@yahoo.co.uk

0321-8291908

رابطہ نمبر اردو بازار، کراچي
ويلکم بک پورٹ:
021-3639581

فضلي سنز:
021-32212991
021-32629724

لاہور ميں يہ کتاب سرائے پر دستياب ہے، جن کا پتہ يہ ہے:

کتاب سرائے
فرسٹ فلور
الحمد مارکيٹ
غزني اسٹريٹ
اردو بازار لاہور
فون نمبر: 042- 37320318

راولپنڈی و اسلام آباد ميں کچھ دنوں کے بعد يہ “کتاب گھر” پر دستياب ہوگی:

کتاب گھر
اقبال روڈ
کميٹی چوک
راولپنڈی
فون نمبر: 051-5552929

کتاب ميں جو مضامين شامل کيے گئے ہيں ان کے لکھنے والوں ميں ڈاکٹر ابو الخير کشفی، پروفيسر مجنوں گورکھپوری، پروفيسر انوار الحق، جناب رئيس امروپوی، جناب شاعر لکھنوی، جناب عزيز جبران انصاري، جناب شکيل عادل زادہ، جناب مشتاق احمد قريشی، جناب مجاور حسين رضوی (الہ آباد)، جناب سرشار صديقی، جناب احمد صفی (فرزند ابن صفي)، جناب عارف وقار (بي بي سی)، محترمہ زاہدہ حنا، محترمہ بشری رحمان، محترمہ صفيہ صديقي، جناب شاہد منصور،محترمہ ريحانہ لطيف (جناب ابن صفي کي ہمشيرہ)، ڈاکٹر مرزا حامد بيگ، ڈاکٹر خالد جاويد (جامعہ مليہ ميں اردو کے استاد)، جناب عارف اقبال (اردو بک ريويو دلي کے مدير)، جناب ابن سلطان ناروی، جناب شکيل جمالی (الہ اباد ميں ادارہ نکہت سے وابستہ اديب/ابن صفی کے ديرينہ دوست) و ديگر شامل ہيں۔ اس کے علاوہ کتاب ميں جرمنی ميں اردو کي محقق ڈاکٹر کرسٹينا اوسٹرہيلڈ اور ناروے کے پروفيسر فين تھيئسن کے انڑويوز بھی شامل کيے گئے ہيں۔

کتاب کے ليے ابتدائی مضامين تحرير کرنے والوں ميں جناب احمد صفي، جناب محمد حنيف، جناب خرم علي شفيق اور جناب سيد معراج جامي شامل ہيں۔

کتاب کا عنوان فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کا تجويز کردہ ہے۔

کتاب میں جناب ابن صفی کی چند یادگار تصاویر بھی شامل ہیں، ان میں ان کے بچپن کی ایک تصویر بھی شامل کی گئی ہے۔ دیگر تصاویر میں ابن صفی کے والدین، ان کے اہل خانہ کی تصویریں موجود ہیں۔  اس کے علاوہ علامہ طالب جوہری کے ہمراہ ایک نایاب تصویر بھی شامل ہے۔

کتاب میں فلم دھماکہ کے پرڈیوسر مولانا ہپی کی ایک حالیہ تصویر ہے جو چالیس برس کے طویل عرصے بعد زیر تذکرہ کتاب کے ذریعے پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے ہیں۔

زير نظر کتاب کو مرتب کيے جانے کے سلسلے ميں کچھ ايسے لوگوں نے کرم فرمائی سے نوازا جن کي مدد کے بغير يہ کام کرنا ناممکن ہوتا۔ ان ميں سرفہرست جناب احمد صفي اور جناب محمد حنيف ہيں۔ احمد صفي صاحب نے کتاب کے آغاز ميں شموليت کے ليے ايک ايسا مضمون تحرير کيا جسے جناب ابن صفي کے پرستار اپني آنکھيں نم کيے بغير نہيں پڑھ سکتے۔ حنيف صاحب نے کتاب کے ليے انگريزی سے ابن صفي کا تعارف اردو ميں منتقل کيا۔جناب شکيل عادل زادہ کی عنايات مجھ حقير پر رہيں، سيد معراج جامي صاحب نے بحيثيت ناشر نہيں بلکہ ابن صفي کے ايک پرستار کی صورت اس کام ميں غير معمولي دلچسپي لي۔کتاب کے حواشي سخت محنت کے بعد مرتب کيے گئے ہيں۔اس دوران کتاب ميں شامل چند مضامين کے جن مصنفين نے مطلوبہ معلومات فراہم کيں ان ميں جناب مشتاق احمد قريشي ، جناب شاہد منصور ، جناب ايچ اقبال، محترمہ زاہدہ حنا اور لاہور سے جناب عارف وقار اورجناب حسن نثار شامل ہيں۔ ادھر ممبئی سے اکرم الہ آبادي مرحوم کي صاحبزادي ناہيد خاتون ، دلي سے محترم عباس حسيني کے صاحبزادے جناب اعجاز حيدررضوي ، الہ آباد سے پروفيسر مجاور حسين رضوي، جناب کمال احمد رضوي (الف نون), حيدرآباد يونيورسٹي دکن کے سابق پروفيسر رحمت اللہ يوسف زئی، دکن سے برقي جريدہ سمت کے مدير جناب اعجاز عبيد اور الہ آباد سے جناب چودھري ابن النصير نے مطلوبہ معلومات کي فراہمی ميں بے مثال تعاون کيا۔ بريڈ فورڈ ميں مقيم بزرگ افسانہ نگار جناب مقصود الہی شيخ اور حيدرآباد دکن ميں ماہنامہ قومی زبان کے مدير جناب ارشد زبيری نے چند مطلوبہ فائلز ارسال کيں۔ اللہ تعالي ان سب کو جزائے خير عطاء فرمائے۔

اس موقع پر ميں محترم ڈاکٹر عبدالقدير خان (ايٹمي پروگرام کے خالق )،ڈاکٹر معين الدين عقيل ممبئی کے فلمي کہانی کار و مکالمہ نويس جاويد صديقی اورصاحب طرز قلمکار جناب رضا علي عابدی کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی گراں قدر آرا سے نوازا۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل نے خاکسار کی خصوصی فرمائش پر کتاب کے لیے تبصرہ ارسال کیا تھا، آج ان کا پیغام آیا ہے، کہتے ہیں:
عزیزم راشد اشرف صاحب
تو گویا آپ کا خلوص، آپ کی لگن اور ساتھ ہی محنت و سلیقہ رنگ لے ہی آیا۔
مرحوم کی روح کو کس قدر قرار آیا ہوگا! کاش ہماری قوم زندہ ہوتی تو ایسے افراد اپنی زندگی ہی میں پذیرائی حاصل کرلیتے۔ اور انھیں اگر کوئی انعام نہ بھی ملتا مگر ایک طمانیت کے احساس کے ساتھ تو رخصت ہوتے۔
آپ کو مبارک ہو، صد مبارک، کہ آپ نے اپنا حق ادا کیا۔
معین الدین عقیل

ایک دوست نے پوچھا کہ اس کی تقریب رونمائی کب کروارہے ہیں ?
عرض کیا کہ بھائی!
یہ تو بڑے لوگوں کے کرنے کے کام ہیں، کتاب کی رونمائی کس شان سے ہوتی ہے، یہ ہم
دیکھتے آئے ہیں — لیکن درون خانہ وہی ہوتا کہ بقول مشفق خواجہ “دو سو گرام کاغذ پر دس گرام کی بات” —– لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ لکھنے والے سبھی نامی گرامی اور ابن صفی لکھ کر اس ادبی ناانصافی کی تلافی کر گئے جو آج سے عرصہ تین برس قبل تک ان سے روا رکھی جاتی رہی تھی (اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے)
میں نے ان سے کہا، آپ سے بھی کہتا ہوں کہ کوئی بھی یہ کام کرتا تو قبولیت کی سند پاتا کہ ابن صفی صاحب سے محبت کرنے والے آج بھی موجود ہیں۔ شاد اس بات پر ہوں کہ یہ کتاب میں شامل نوے فیصد مضامین ستر اور اسی کی دہائی میں ڈائجسٹوں میں شائع ہوئے تھے اور ڈائجسٹوں کا ریکارڈ تو لائبریریوں میں بھی نہیں ہوتا۔ ڈر تھا کہ وقت کی گرد انہیں مٹا دے گی، خوش ہوں کہ یہ محفوظ ہوگئے۔

اس ملک میں کتاب یا تو دوانہ لکھے یا پھر وہ جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو، آبادی اٹھارہ کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ خواندہ کو مطالعے سے رغبت نہیں رہی، کتابیں خریدنے کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ ہزار میں سے کسی ایک گھر میں کتابیں خریدنے کا بجٹ رکھا جاتا ہو۔ ادھر الیکٹرونک میڈیا نے مطالعے کا بہت سا وقت غصب کرلیا ہے۔ کتاب مرتب کرتے وقت ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ دیدہ ریزی سے لے کر بسا اوقات چند مضامین کی کمپوزنگ بھی خود ہی کرتا رہا تھا۔۔۔۔ جیسے جیسے وقت قریب آتا رہا، وحشت دوچند ہوتی رہی تھی کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ بات بات میں فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کو زحمت، ای میلیز کا تانتا، موبائل پر ایس ایم ایس کی بھرمار — ادھر یہ رویہ کہ دفتر سے وہ تھکے ہارے رات گئے گھر لوٹتے اور صبح میرے کمپوٹر اسکرین پر مطلوہہ معلومات جگمگا رہی ہوتی تھیں۔
احمد بھائی کے لیے یہ “غم” غم روزگار سے دلفریب ہوا!

کتاب کی تیاری کے دوران یہ کیفیت تھی کہ غلطی رہ جانے پر جاں کنی کی حالت ۔۔۔۔۔۔ ہندوستان سے مطلوبہ معلومات کی آمد ہوتی تھی تو کہیں اکرم الہ آبادی مرحوم کی صاحبزادی سے ممبئی میں ہوئی بات کو مناسب الفاظ میں ڈھالنے کی فکر درپے تھی، دکن سے پروفیسر رحمت یوسف زئی جیسے علم دوست مہربان کی جانب سے ابن صفی صاحب کے 1948 کے نکہت الہ آباد کے دوستوں کے بارے میں معلومات کی آمد کا انتظار ہوتا تھا تو کہیں یہ خیال دامن گیر رہتا تھا کہ کتاب کے دیگر حواشی کی صحت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں تک پہنچنا کتنا مشکل ہے، انہی دنوں معلوم ہوا، اسلام آباد کے ایک صحافی نے تو یہ کہہ کر ہوش اڑا دیے کہ ” میاں! تم فون نمبر کی بات کرتے ہو، سیکیورٹی کا یہ عالم ہے میں تو جہاں وہ رہتے ہیں، وہاں سے گزر بھی نہیں سکتا” —- اپنے پلے ان کا پرانا نمبر تھا جس پر بات ہوتی رہی تھی —— خیر پھر تمام مراحل آسان ہوتے چلے گئے۔ بریڈ فورڈ سے جناب مقصود الہی شیخ نے دو طویل مضامین کی سی ڈیز بھجوا دیں، لیجیے ٹائپ کرنے کی زحمت سے بچے، ادھر دکن کے قومی زبان کے ارشد زبیری صاحب کی مہربانی کی وجہ سے 5 مضامین بنے بنائے ملے۔

غلطی ہوجانے پر اعتبار کا اندیشہ زیاں تھا لیکن چونکہ نان شبینہ زد پر آنے کا احتمال لاحق نہ تھا سو چلتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔ سنا ہے دوانوں کو بخشش کا ایک گداز تو ملا کرتا ہے

يہ بھي ايک اتفاق ہے کہ اس کتاب کو مرتب کيے جانے کے دوران جامعہ کراچي سے ايک مدرس جناب محمد ياسين نے راقم سے مدد کي غرض سے رابطہ کيا ، وہ ايم فل کررہے ہيں اور ان کے انگريزي مقالے کا موضوع ابن صفی ہيں۔ يہ ايک اہم پيش رفت ہے ۔ مجھے اس بات پر کامل يقين ہے کہ آنے والے وقت ميں جناب ابن صفي کي ہمہ جہت شخصيت اور ان کے فن پر مزيد تحقيقي کاموں کا آغاز ہوگا۔

خير انديش
راشد اشرف

Rashid Ashraf: zest70pk@gmail.com

Both comments and pings are currently closed.

Comments are closed.