Archive for March, 2010

A Chat with Kamal Ahmed Rizvi (کمال احمد رضوی (الن) سے ابن صفی کے حوالے سے ملاقات مارچ تیرہ 2010

کمال احمد رضوی (الن) سے ابن صفی کے حوالے سے ملاقات

مارچ 13، سن 2010 کو کمال احمد رضوی، پہلی مرتبہ کسی بھی فورم ہر جناب ابن صفی کے بارے میں

اظہار خیال کرتے ہوئے


In case if any error occurred while viewing this video, please click the icon of YouTube given on the lower side of this video

الن کو بھلانا بہت مشکل ہے جو ہمارے پاکستان ٹیلی وژن کے پسندیدہ کرداروں میں سے ایک ہے! ایک لامبا، دبلا کردار جس کے چہرے پر ایک مکارانہ مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے اور جس کا پٹارہ نت نئے حربوں سے لبریز رہتا ہے لیکن افسوس کہ اس کا موٹا اور بے عقل لیکن معصوم و صاف گو ساتھی ننھا اپنی صاف گوئی کی بنا پر الن کے تمام حربوں، اس کی بنائی تمام اسکیموں کو تاراج کردیتا ہے! لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے اس مکار شخص الن کی تمام تر چالاکیوں کی باوجود بھی اس کے دیکھنے والوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کا جذبہ کسی صورت بیدار نہیں ہوتا!

میں تیرہ مارچ سن 2010 کی ایک صبح کمال احمد رضوی کے سامنے بیٹھا تھا جو الن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایک بڑے مصنف، منجھے ہوئے ہدایتکار اور ایک لاجواب فنکار۔ وہ بلاشبہ ایک انٹیلیکچوئل ہیں –کمال صاحب پر اس ملاقات کے دو مقاصد میں پہلے ہی واضح کرچکا تھا، ایک تو جناب ابن صفی سے ان کی ملاقات کا بیان اور دوسرے ان کے لازوال ڈرامے الف نون کے حوالے سے کچھ گفتگو۔ اس بات کی نشان دہی انتہائی اہم ہے کہ ابن صفی پر، کمال احمد رضوی کا کوئی بیان تادم تحریر کہیں دستیاب نہیں، درحقیقت وہ اس موضوع پر پہلی مرتبہ اظہار رائے کرتے نظر آئے اور ان کے یہ خیالات میری نظر میں بلاشبہ ایک جینئس کا دوسرے جینئس کو خراج تحسین ہے۔

سب سے پہلے تو یہ سنیے کہ کمال احمد رضوی، جناب ابن صفی سے اپنی واحد ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں

ابن صفی صاحب سے میری ایک ہی ملاقات ہوئی اور یہ بہت عرصہ پہلے، کوئی سن 1973 یا 74 کی بات ہے۔ میں کوئنس روڈ پر ایک فلیٹ میں رہتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں لاہور سے نیا نیا کراچی شفٹ ہوا تھا۔ ٹیلی وژن پر ایک سیریل بنانی تھی تو میں نے وہاں فلیٹ لے لیا۔ اُن دنوں دوستوں کا آنا جانا تھا، بڑے بڑے لوگ آئے۔ ادیب، فنکار، سائنٹسٹ۔ تو بڑی یادیں اس گھر سے وابستہ ہیں۔ میرے ایک دوست، ان کا نام میں بھول رہا ہوں، وہ ابن صفی کو میرے پاس اس فلیٹ پر لےکر آئے تھے۔ تو وہاں وہ ہمارے دوست کچھ شغل فرما رہے تھے، کچھ ڈرنکس وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں۔۔۔۔ انہوں نے ابن صفی صاحب کو بھی آفر کیا تو وہ کہنے لگے کہ میں تو پیتا ہی نہیں۔

(یہ بتاتے ہوئے کمال احمد رضوی اپنے خاص انداز میں ہنس پڑے)

دراصل وہ ایک شریف آدمی تھے۔ تو میں (کمال رضوی) نے ابن صفی سے کہا کہ آپ نے ان لوگوں کی صحبت کیوں اختیار کررکھی ہے ? اس پر ابن صفی نے کہا کہ “یہ ہمارے قدردان ہیں اور عزت کرتے ہیں، اور ہم آپ (کمال رضوی) کی عزت کرتے ہیں اور آج آپ سے ملاقات ہوگئی۔ تو کافی باتیں ہوئیں۔۔۔اب مجھے پوری طرح سے اس کی تفصیل یاد نہیں ہے۔۔وہ ایک طویل سٹنگ تھی، مطلب یہ کہ ابن صفی وہاں دو گھنٹے بیٹھے اور دوپہر کا کھانا کھا کر رخصت ہوئے۔۔۔وہ بہت ہی شریف آدمی تھے۔۔۔ اور بہت کم گو تھے! ان کا (ابن صفی) ایک پروگرام آیا تھا، وہ ضیامحی الدین شو جو چلتا تھا۔۔۔اس میں آئے تھے وہ اور اس پروگرام کا حوالہ بھی دیا تھا میں نے ان کو کہ پروگرام بہت اچھا تھا! – ان میں ذرا بھی شہرت اور نام و نمود کی خواہش نہیں تھی جو آج کل کے ادیبوں میں ہے، آج کل کی کیا بات ہے، تمام وقت کے ادیبوں کی بات ہے، ان کو ستائش کا بڑا چسکا ہے کہ ستائش ہوتی رہے جبکہ ابن صفی میں قطعا” یہ بات نہیں تھی! — ایک ہی ملاقات ہوئی ان سے اور اس میں، میں نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ بہت ہی غور کرنے والے شخص تھے۔ غور کرنے کا ملکہ ان کو اتنا تھا کہ وہ مسٹری رائٹر بن گئے – اس کے لیے کتنی محنت کرنی پڑتی ہے، کسطرح اپنے کرداروں کو سنوارنا پڑتا ہے، کسطرح ان کا بناؤ سنگھار کرنا پڑتا ہے اور کیسے کہانی کی صورت میں پیش کرنا پڑتا ہے، اس کا ابن صفی کے پاس بڑا ملکہ تھا! بجا طور پر میں یہ کہتا ہوں کہ ابن صفی سے پہلے ہندوستان میں بھی مسٹری رائٹر تھے، نیلی چھتری جو انہوں نے لکھا تھا۔۔۔۔۔ (ظفر عمر کا نام ہم نے کمال صاحب کو یاد دلایا) — جی ہاں! ظفر عمر جو تھے اور جن کے گھر کا نام ہی نیلی چھتری تھا لیکن پاکستان بن جانے کے بعد ابن صفی جیسا کسی نے نہیں لکھا، اس لحاظ سے وہ بڑی منفرد شخصیت تھے۔ ابن صفی پر کوئی کام نہیں ہوا، مطلب ادب کے حوالے سے جو پذیرائی ان کو ملنی چاہیے تھی، وہ نہیں ملی۔ ان کے کام کو ٹیلیوائز کیا جانا چاہیے تھا۔ شاید کسی کے بس میں وہ کریکٹر آنہیں سکے تھے، مجبوریاں ہوتی ہیں— اب انگلستان میں دیکھیے، آرتھر کونن ڈائل کے تخلیق کردہ شرلاک ہومز پر اس وقت تک کچھ نہیں کچھ نہیں تو دس سے بارہ ٹیلی وژن سیریلز بن چکی ہیں اور مختلف لوگوں نے اس میں کردار ادا کیے ہیں۔ ہمارے ہاں موروثی چیزوں کی قدر نہیں ہے۔

کمال احمد رضوی یکم مئی سن 1930 کو بہار کے قصبے گیا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولیس ڈیپارٹمنٹ میں تھے۔ کمال صاحب سن 1951 میں لاہور چلے آئے۔ سن 1958 میں تھیٹر کا کیریر شروع کیا۔ مشہور ڈرامہ بالا کی بدذات سن 1960 میں پیش کیا۔ ایسے ڈراموں کی تعداد 20 کے لگ بھگ ہے جنہیں یا تو کمال صاحب نے لکھا، اداکاری کی یا پھر ان کی ڈائرکشنز دیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں: ” زندہ رہنے کے لیے میں نے بڑی جدوجہد کی، ڈرامے لکھے، امروز میں کالم نگاری کی، انگریزی کتب کے تراجم کیے (جن میں ڈیل کارنیگی کی کتابیں نمایاں ہیں)، ادب لطیف میں افسانے لکھے۔” —- یہ بتاتے ہوئے ان کے لہجے میں ماضی کی یادوں کی تلخی جیسے گھل سی گئی تھی۔ کمال احمد رضوی نے سن 1965 میں نوزائیدہ لاہور ٹی وی سے الف نون کا آغاز کیا۔ وہ خود کو ملنے والے پرائڈ آف پرفارمنس کو طوق ندامت کہتے ہیں۔ کمال احمد رضوی کے والد اور ان کے دیگر اہل خانہ تقسیم کے بعد پاکستان منتقل نہیں ہوئے۔ ان کے والد کا انتقال سن 1955 میں “گیا” ہی میں ہوا تھا جس میں شرکت کے لیے کمال صاحب “گیا” گئے تھے۔

الف نون وہ واحد ڈرامائی سیریز ہے جو سن 1965 سے سن 1982 تک مختلف وقفوں میں علاحدہ علاحدہ چار مرتبہ نشر ہوئی۔ بالکل شروع میں لائیر پروگرام چلا کرتے تھے تو یہ بغیر پیشگی ریکارڈنگ کے، آٹھ ماہ تک چلی۔ دوسری مرتبہ الف نون سن 1967 اور سن 1968 میں جاری ہوا۔ تین برس بعد یہ سیریز سن 1971 سے سن 1972 تک چلی اور پھر چوتھی مرتبہ سن 1981 سے سن 1982 تک نشر کی گئی۔

الف نون پر گفتگو کرتے ہوئے کمال احمد رضوی یوں گویا ہوئے

یہ جو آپ (راقم) الف نون لیے پھر رہے ہیں مجھے تو حیرت ہے کہ کیسے آپ کو یہ سودا سمایا – ایک چیز جو میں نے دیکھی ہے کہ الف نون جو ہے یہ مرتے مرتے تک نہیں مرا، یہ زندہ ہی رہا ہے

جوابا” ہم نے عرض کیا کہ حضور ہنستے کھلیتے ہوئے کسی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دینا تو کوئی آپ سے سیکھے! الف نون کے یہ تمام پروگرامز دراصل ادب پارے ہیں! یہ وہ زندہ ڈرامے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گے کہ آپ (کمال رضوی) دیکھ لیں کہ 28 برس قبل آپ کا لکھا ہوا “ذخیرہ اندوزی میں” چینی کے حالیہ بحران میں نگینے کی طرح فٹ ہوتا ہے!

آپ کا فن، آپ کا فقرہ ہے!

دلچسپ و عجیب بات یہ تھی کہ کمال احمد رضوی صاحب کے پاس الف نون کے ڈراموں کا کوئی ریکارڈ نہ تھا۔ ہم نے اس بے مثال پروگرام کی چند انتہائی نایاب ڈی وی ڈیز اُن کو تحفتا” پیش کیں جو مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

کمال احمد رضوی ان دنوں الف نون کے ڈراموں کے اسکرپٹ پر مبنی کتاب کو شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ چند ڈراموں کے اسکرپٹ پر نظر ثانی کرچکے ہیں اور باقی پر کام کررہے ہیں۔ جب میں کمال صاحب کو کسی شکیلہ خانم کو تحفتا دی ہوئی کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی دستخط شدہ خود نوشت یادوں کا جشن کے بارے میں بتا رہا تھا کہ کیسے وہ مجھے پرانی کتابوں کے ٹھکانے سے اتفاقا مل گئی تھی اور کیا کیا خزانے وہاں فروخت کے لیے آتے ہیں تو انہوں نے مجھے الف نون کے ایک ایسے ڈرامے کے بارے میں بتایا جس کا ہم نے اس سے قبل کبھی ذکر نہ سنا تھا۔ اس ڈرامے کا عنوان ” کتب فروشی میں” تھا۔ کمال صاحب کی باتوں سے ایسا محسوس ہوا کہ مذکورہ ڈرامہ ایک انتہائی دلچسپ ڈرامہ ہے۔ وہ مجھے بتانے لگے کہ اس میں الن ایک گاہک کو جارج برنارڈ شا کی کتاب یہ کہہ کر بیچتا ہے کہ یہ کتاب شا نے سمرسٹ ماہم کو تحفتا پیش کی تھی اور اس پر لکھا تھا ” سمسٹ ماہم کے لیے، جی بی شا کی طرف سے”۔ الن اسی کتاب کی پانچ کاپیاں “اگین گفٹڈ ٹو سمسٹ فرام جی بی شا” لکھ کر فروخت کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ ایک گاہک کو چند جعلی قلمی نسخے فروخت کرتا ہے اور گاہک کے یہ پوچھنے پر کہ کیا غالب کا کوئی قلمی نسخہ ہے، ننھا جوابا” کہتا ہے کہ کہ آپ پرسوں صبح آجائیں۔ گاہک سوال کرتا ہے کہ پرسوں کیوں، کل کیوں نہیں ? تو ننھا الن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کل رت تو یہ بیٹھ کر وہ قلمی نسخے لکھےگا۔

اس سوال پر کہ کیا آپ کو الف نون لکھتے وقت سازگار فضا میسر آئی تھی، کمال صاحب یوں گویا ہوئے:

” میرے خانگی ان دنوں حالات بڑے ابتر اورخراب ہوچکے تھے، بہت دھچکے مجھے لگے تھے۔ پھر میں نے سوچا کہ کیا کرنا چایئے، اس زمانے میں، میں بیکار تھا تو پھر میں نے الف نون شروع کیا۔ تو میں یہی کہتا ہوں کہ یہ قدرت کی طرف سے میرے لیے جذباتی سہارا بھی تھا کیونکہ جب لوگ الف نون دیکھتے تھے تو واہ واہ کرتے تھے۔ قردت نے اس سے مجھے ایک سکون اور ڈھارس فراہم کی۔ وہ خوشی مجھے اب تک محسوس ہوتی ہے اور پھر اس کے پیسے بھی ملتے تھے، جتنے بھی ملتے تھے، وہ اتنے ہوتے تھے کہ گزارا بھی ہوجاتا تھا۔ الف نون اس قدر مقبول ہوا کہ کہ جب میں نے ایک بار کراچی آکر اسے پیش کیا تو اس زمانے میں ٹکٹوں کی فروخت سے مجھے 72 ہزار روپے ملے تھے جس سے میں نے زمین خریدی اور پھر بعد میں اس پر مکان بنوایا۔ الف نون لکھنے کا موقع مجھے قدرت نے فراہم کیا تھا ورنہ ہوسکتا تھا کہ میں ان دنوں خودکشی کرلیتا۔ ایسے مرحلے آتے ہیں انسان کی زندگی میں ، اور یہ کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا کیا ہوگیا تھا کہ فلاں نے خود کشی کرلی۔ زندگی تو بڑی قیمتی چیز ہے۔ لیکن یہ تو وہ جانتا ہے جو اس کرائسس سے گزرتا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ قدرت نے مجھ سے وہ کام لیا اور یہ چیزیں (الف نون) آنا” فانا” ہوگئیں۔ یہ میرا تجزیہ ہے اپنے بارے میں اور اپنے کام کے بارے میں۔”

آئیے دیکھتے ہیں کہ چند نامی گرامی اہل قلم، الف نون اور کمال احمد رضوی کے بارے میں کیا کہتے ہیں:

منیر نیازی: “کمال احمد رضوی چاقو سے گدگدی کرتا ہے”

شفیق الرحمان: ” الف اور نون کو پہلی مرتبہ دیکھنے پر مقوی صحت دواؤں کے اشتہار یاد آتے ہیں جن پر استعمال سے پہلے اور استعمال کے بعد کی تصاویر نمایاں ہوتی ہیں۔”

پروین شاکر: “الف نون ہماری گھٹن سے بھرپور زندگیوں میں بارش کے جھونکے کی طرح داخل ہوا اور یہاں سے وہاں تک تمام دریچوں پر دستک دیتا چلا گیا۔”

انتظار حسین: ” مرزا سودا کی ہجویات کی طرح الف نون بھی قوم کے اخلاقی زوال کا ایک مرثیہ ہے۔”

الف نون کے الن کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ وہ اسکرین پر بھی اتنے ہی کمینے دکھائی دے رہے ہیں کہ نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ الف نون میں ننھا ایک جملہ کثرت سے دوہراتا ہے کہ “الن تم بہت کمینے ہو” —- یاد رہے کہ الف نون کا اسکرپٹ خود کمال احمد رضوی کا لکھا ہوا ہے۔

کمال احمد رضوی کے قلم کی کاٹ اور اس کی بےباکی کی مثال نہیں ملتی۔ فقرہ اس طرح سے ادا کیا جاتا تھا کہ دنیا کے کسی سنسر بورڈ کی گرفت میں میں اس کا آنا ناممکن تھا۔

الن اپنے ایک سیٹھ کردار کو الیکشن میں کھڑا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ سیٹھ استفسار کرتا ہے کہ “کیا قوم مجھے ووٹ دے گی” —- الن کہتا ہے کہ “کیوں نہیں سیٹھ صاحب! آپ نے تو پچیس سال اس قوم کی (لمبا وقفہ)———— خدمت کی ہے۔”

ایک اور ڈرامے میں ننھا نہایت خلوص سے کسی انگریز سے گالیاں سیکھ کر آتا ہے اور الن کے سامنے بنا ان کا مطلب جانے، نہایت وثوق سے وہ تمام دوہرا رہا ہوتا ہے۔ وہ الن کو ایڈیٹ کہتا ہے اور الن کے ناراض ہونے پر کہتا ہے کہ “تُو تو اس طرح ناراض ہورہا ہے جیسے میں نے تجھے کوئی گالی دی ہو۔” —– پھر وہ الن کو کسی بات پر جھڑک کر زور سے چلاتا ہے ” او شٹ اپ یُو مدر فادر” –الن معنی خیز انداز میں آنکھیں گھما کر کہتا ہے ” کیا۔۔۔ کیا کہا! مدر فارد، یہ اس نے تجھے کہا تھا” —– اور جوابا” ننھا اس کو سمجھانے والے انداز میں کہتا ہے ” الن تجھے نہیں پتا، مدر فادر کا مطلب ہوتا ہے، مائی باپ”!

الف نون کے ایک لافانی ڈرامے “آرٹ گیلری میں” کے چند منتخب حصے ملاحظہ ہوں:

ننھا: دیکھ الن، بہتر گھنٹے سائکل چلا چلا کر میرا حال برا ہوگیا ہے

الن: تو پکا آرٹسٹ بھی تو بن گیا ہے تُو

ایک اور منظر میں ننھے کی صاف گوئی کی وجہ سے اسپانسر کے بھاگ جانے پر

ننھا: اب ناراض نہ ہو۔ تُو نے بھی تو مجھے وہ کام لگا دیا ہے جو میرے باپ دادا نے بھی کبھی نہیں کیا

الن: تو جو کر رہے ہیں، ان کے باپ دادا نے کیا تھا کبھی

ایک اور منظر میں

الن: اب اس تصویر پر دستخط کردے

ننھا: تُو کردے، مجھے تو دستخط کرنا نہیں آتا – میں انگوٹھا لگا دیتا ہوں

الن (دانت پیستے ہوئے): انگوٹھا میں تیرے گلے پر لگاؤں گا۔

ایک اور منظر میں: (کمرے میں اسپانسر خاتون کی موجودگی میں

ننھا (کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کسی کے بارے میں زور سے): اب تم آنا یہاں، ذلیل آدمی، کمینہ نہ ہو تو۔۔۔۔۔

الن: کیا ہوا بھئی، کیا ہوا

ننھا: الن میں چائے والے کے پاس گیا، میں نے اس سے کہا کہ چائے بھجوا دو، ہمارے گھر عورت آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس نے انکار کردیا

الن: بھئی تم ایسے ذلیل لوگوں کے منہ کیوں لگتے ہو، تم ایک آرٹسٹ ہو

ننھا: میں بھی اس سے یہی کہا تھا کہ اب ہم “آرٹشٹ” ہوگئے ہیں لیکن اس نے کہا کہ تم بہت جلد اندر بھی ہوجاؤ گے، اس لیے تم فراڈ ہو

الن: بھئی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لوگوں نے یہی بات ریمبراں سے بھی کہی تھی، پکاسو اور وان گو سے بھی کہی تھی

ننھا (حیرت سے): اچھا، تو ان لوگوں کی بھی چائے والوں سے نہیں بنتی تھی

ایک اور منظر میں: (کمرے میں اسپانسر خاتون اور ننھا

خاتون (ثمینہ احمد ایک وارفتگی کے لہجے میں): آپ نے پہلی پینٹنگ کب بنائی تھی

ننھا: جی، پرسوں رات، خبرنامے سے کچھ پہلے

خاتون(انتہائی حیرت و بے یقینی سے): جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ننھا: ہاں جی، آپ کو نہیں پتا، یہ الن بڑا استاد آدمی ہے، اس کو اچانک یہ خیال آیا کہ یہ “آرٹشٹ” لوگ بڑا پیسہ کما رہے ہیں تو کیوں نہ یہ دھندا شروع کیا جائے، بس پھر کیا تھا، اس نے ایک ٹرک کے پیچھے سے یہ ترپال کھینچی، اس کے ٹوٹے کرائے اور ایک رنگ والی مائی سے جاکر یہ برش اور یہ بالٹی لے آیا۔

انجمن قرض داران میں ایک لاجواب پروگرام ہے جس میں الن اور ننھا ہوٹل کے ایک ایسے کمرے میں جاگھستے ہیں جس میں بڑے بڑے قرض داروں کی میٹنگ ہورہی ہوتی ہے، وہاں ان دونوں کو بھی قرض دار سمجھ لیا جاتا ہے اور الن بڑی ہوشیاری سے صورتحال سنبھال لیتا ہے

ایک منظر

قرض دار (کشور سجاد): الن صاحب، آُپ کی شکل بڑی مانوس سی معلوم ہوتی ہے

ننھا (پیسٹری سے بھرے منہ کے ساتھ، سر ہلا کر بڑے وثوق سے): ہاں جی، تو “منحوس” شکل تو آپ کو منحوس ہی لگے گی نا

الن (شرمندگی سے): ارے بھئی، مانوس کہہ رہے ہیں، یعنی جانی پہچانی

دوسرا منظر

قرض دار: الن صاحب، تو آپ کا بھی لاکھوں کروڑوں کا بزنس ہے

ننھا: ہمارا لاکھوں کروڑوں کا صرف چکر ہے

الن: تو بزنس مین لاکھوں کروڑوں کا چکر دے کر ہی تو لکھ پتی اور کروڑ پتی بن جاتا ہے

قرض دار (ایک بات کے جواب میں): بھئی اس طرح تو بڑا مسئلہ ہوجائے گا، قُرقیاں ہوجائیں گی

ننھا: “کُڑکڑیاں” نہیں جی مرغیاں ہوتی ہیں

الن: ارے بھئی، قرقیاں کہہ رہے ہیں وہ

تمام قرض دار، دو روز بعد اپنے قرضے معاف کرانے کے لیے، افسر سے ملاقات کی خاطر اسلام آباد جارہے ہوتے ہیں اور الن و ننھے کی گفتگو سے متاثر ہو کر الن کو اپنا ٹیم لیڈر منتخب کرلیتے ہیں لیکن الن ننھے کو لیڈر نامزد کردیتا ہے

اسلام آباد کا منظر

ننھا اسکاؤٹس کی کالی ٹوپی پہنے ایک ہاتھ میں سگریٹ دبائے، میز کے کنارے، فنانس افسر کے قریب بیٹھا ہوتا ہے۔ اور سیکریٹری صاحب بدقسمتی سے ننھے ہی سے کہتے ہیں کہ اپنے لوگ فردا” فردا” اپنے قرضوں کی تفصیل بتائیں

الن: نہیں نہیں جی، یہ کیا بتائیں گے، آپ ان لوگوں سے پوچھیں

ننھا: وہ جب کہہ رہے ہیں، وہ افسر ہیں، تو میں ہی بتاؤں گا نا

ننھا: وہاں موجود ایک خاتون سے مخاطب ہو کر : ” آپا جی یہ، مردنا” مردنا” والی بات درست ہے – مردوں کو پہلے بتانا چاہیے

افسر: جی تو آپ کی کیا تفصیل ہے

ننھا: دیکھیں جی، سر جی، موٹے موٹے قرضوں کی تفصیل تو میں آپ کو انگلیوں پر گن کر بتا سکتا ہوں — بابو کے ہوٹل کے تو 20 روپے ہیں اور سبزی والے کا بل 15 روپے، یہ کتنے ہوئے سر جی ?

افسر (ناگواری سے): 35 روپے

ننھا: اس کے علاوہ اخبار والے کا بل، لانڈری والے کا بل ملا کر کوئی “اٹھاٹ” روپے بنتے ہیں

الن: “اٹھاٹ” روپے کیسے بن گئے ?

ننھا: تُو نے اخبار والے سے 35 روپے نقد نہیں لیے تھے ? (پھر افسر کی طرف دیکھ کر) اس نے اخبار والے سے 35 روپے نقد لیے تھے سر جی، اور اس کے بعد اس نے ہمیں نقد دینا ہی بند کردیا تھا — یہ جو سوٹ الن نے پہنا ہے نا جی، یہ اس نے لانڈری والے سے کرائے پر لیا ہے اور آج تک واپس ہی نہیں کیا، وہ مجھے دے دیتا ہے اس لیے کہ میں وقت پر واپس کردیتا ہوں

افسر (انتہائی ناگواری سے): جی آپ کیا فرما (فرما پر بہت زور دے کر) رہے ہیں

ننھا: سر جی، یہی ہمارے “پراگلم” ہے

افسر: جی

ننھا: پراگلم — پراگلم — انگریزی

الن: بھئی اس کا ذکر آپ یہاں کیوں کررہے ہیں، یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہیے

ننھا: کیوں ذاتی کیوں ? یہ رقم کیا قومی خزانے میں نہیں جانی چاہیے ? قومی خزانے میں یہ رقم نہیں جائے گی تو ملک کے باقی کاموں کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا ?

ایک اور قرض دار: سر میری سنیں، میرے والد صاحب نے کارپوریشن سے قرضہ لیا اور پھر فورا ہی ان کا انتقال ہوگیا

ننھا: کارپوریشن ان کے والد صاحب کی فوتیدگی کا شدت سے انتظار کررہی تھی، ادھر قرضہ دیا اور ادھر والد صاحب “گڑم” کر کے گئے

افسر (ننھے سے): آپ نے ہاؤس بلڈنگ سے کتنا قرضہ لیا ہے

الن (جھنجلا کر): یہ پوچھ رہے ہیں وہ

ننھا: نہیں جی، ان سے تو ہم نے دھیلا نہیں لیا

قرض دار (کشور سجاد انتہائی غصے سے): تو تم نے ہاؤس بلڈنگ کوئی قرضہ نہیں لیا

ننھا: کیا بات کررہے ہیں جی، ہم تو آج تک کبھی بلڈنگ کے اوپر نہیں چڑھے، قرضہ تو دور کی بات ہے

قرض دار (کشور سجاد انتہائی غصے سے): تو تم ہماری میٹنگ میں کیوں آئے ?

ننھا (افسر کی طرف دیکھ کر رازداری سے): سر جی وہ تو میں غسل خانے کی تلاش میں ایک کمرے میں گھس گیا تھا، وہاں دیکھا تو قرض داروں کی “میٹنگن” ہورہی تھی۔

افسر (حیران ہوکر): “میٹنگن” — ?? تو کارپوریشن سے آپ نے قرضہ نہیں لیا

ننھا: یہ تو آپ کارپوریشن سے پوچھیں کہ جب ان کو پتہ تھا کہ دو آدمی فاقوں مر رہے ہیں تو انہوں نے کیوں ہمیں نہیں دیا

افسر: معافی چاہتا ہوں، آپ حضرات مجھے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں

کسی نے سچ ہی تو کہا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب ٹیلیویژن پر الف نون محض پروگرام نہیں، ایک واقعہ ہوتا تھا۔

Saturday, March 13th, 2010

Ibne Safi’s Titles made by M Hanif (محمد حنیف کے بنائے ابن صفی کے ناولز کے ٹائٹل)

Administrator: Rashid Ashraf

zest70pk@gmail.com

تھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسند
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا

یہ تمام سرورق محمد حنیف صاحب ، ایڈمنسٹریٹر ابن صفی ڈاٹ انفو، نے سن 1967 میں اس وقت بنائے تھے جب وہ محض 13 برس کے تھے۔ ناقابل یقین حد تک دلکشی کے حامل یہ سرورق ہم ان کی خصوصی اجازت کے تحت یہاں ابن صفی صاحب کے چاہنے والوں کے لیے پیش کررہے ہیں۔

ہُجوم دل براں اور گروہ عاشقاں میں سے ایک جناب محمد حنیف بھی ہیں — حنیف صاحب کی جناب ابن صفی سے عقیدت کئی دہائیوں پر محیط ہے – ایک عہد ہے پابستگی و وابستگی کا -


حیران کن بات تو یہ ہے کہ 42 برس بیت جانے کے باوجود بھی ان تصاویر کے نہ تو رنگ پھیکے پڑے اور نہ ہی امتداد زمانہ نے ان پر کوئی اثرات چھوڑے – “نقش طراز”کی
وارفتگی تو دیکھیے کہ کس طرح زمانے کے گرم وسرد سے ان تصاویر کو بچا کر رکھا

محمد حنیف صاحب کے قلم کی زبانی ذرا پڑھتے ہیں کہ وہ ان دیدہ زیب ٹائٹلز کو بنائے جاتے وقت کی کیفیات کو کس طرح بیان کررہے ہیں

I am also surprised when you mentioned 42 years. It still seems to be a task of yesterday. I have just came from school, finished my lunch and homework and sat on the floor with my colors and brush. Sat like calligraphers (kaatib) sit, with a sheet of paper on my knees and started painting. It was so fun and satisfying that I could hardly describe it.

I would like to share some Scanned images (in actual size) with you. These are titles of the novels which I painted in water-color. I was so inspired by some titles that I wanted to draw them myself. The title names are based on the painting date. I was in grade-7 in 1967 and my age was 13. Although it is an armature’s work but still shows how I was addicted by these novels. The titles are from Karachi Editions except otherwise mentioned.

مختلف ادیبوں کے خاکوں کے بعد، حنیف صاحب کے بنائے ہوئے چند اسکیچز ہیں جو انہوں نے عمران سیریز کے ناول چٹانوں میں فائر اور جاسوسی دنیا کے تجوری کا راز کے لیے بنائے۔

Friday, March 5th, 2010