Archive for January, 2010

Meeting of Three Friends of Ibne Safi on Jan 31, 2010 (ابن صفی کے تین دیرینہ دوستوں کی ملاقات )

Rashid Ashraf – Administrator: wadi-e-urdu.com
راشد اشرف – ایڈمنسٹریٹر: وادی اردو ڈاٹ کام

In case if any error occurred while viewing this video, please click the icon of YouTube given on the lower side of this video

شیخ ابراہیم ذوق کہہ گئے ہیں

اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

احباب ابن صفی جناب شاہد منصور، جناب جان عالم اور جناب انوار صدیقی جنوری 31 ،سن 2010 کی ایک سہہ پہر کو جان عالم صاحب گھر مجتمع ہوئے — طے شدہ پروگرام کے تحت ہم انوار صدیقی کو لے کر شاہد منصور صاحب کے گھر پہنچے جہاں سے جان عالم صاحب کی رہائش گاہ کا قصد کیا — یاد رہے کہ انوار صدیقی اور شاہد منصور آپس میں40 برس کے طویل عرصے کے بعد ملے تھے —

جان عالم صاحب کے گھر کے باہر تینوں بزرگ ملے، انوار صاحب بھی عالم صاحب سے 40 برس بعد ملے تھے اور شاہد صاحب کی عالم صاحب سے ملاقات قریب 13 برس بعد ہوئی — ابھی گھر کے اندر داخل بھی نہ ہوئے تھے کہ عالم صاحب نے کہا کہ چوتھے دوست کی کمی ہے، کیوں نہ ان سے بھی ملاقات کرلی جائے – میں نے انوار و شاہد صاحب کی طرف دیکھا، وہ راضی نظر آئے —- اس دن پاپوش نگر کے حالات بہت خراب تھے لیکن اللہ کا نام لے کر چلے —

وہاں پہنچ کر عالم صاحب نے پھول خریدے اور تینوں احباب قبر پر گئے – وہاں پہنچ کر ، انوار صاحب آبدیدہ ہوئے بلکہ زاروقطار رونے لگے۔ انوار صاحب، 30 برس بعد پہلی مرتبہ صفی صاحب کی قبر پر گئے تھے — پھول ڈالے جاتے رہے اور فضا بوجھل ہوتی گئی — تینوں احباب قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور صفی صاحب کا تذکرہ ہوتا رہا — لمحہ بہ لمحہ تصاویر لی جاتی رہیں اور ویڈیو بھی بنتی رہی —– یہ تمام تصاویر آپ عنوانات کے ساتھ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

قبرستان سے جان عالم صاحب کے گھر پہنچے اور ڈیڑھ گھنٹہ ابن صفی صاحب کے فن و شخصیت پر خوب باتیں ہوئیں — پھر اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ اگلی ملاقات جلد ہوگی


Sunday, January 31st, 2010

A meeting with friends of ibne safi (احباب ابن صفی سے ایک ملاقات)

Rashid Ashraf – Administrator: wadi-e-urdu.com
راشد اشرف – ایڈمنسٹریٹر: وادی اردو ڈاٹ کام

احباب ابن صفی سے ملاقات

جناب شاہد منصور

اور

جناب جان عالم

In case if any error occurred while viewing this video, please click the icon of YouTube given on the lower side of this video

جناب جان عالم سے ملاقات – جنوری 20، 2010

جنوری سن 2010 کا دن تھا کہ ہم احمد صفی صاحب کے ہمراہ جناب ابن صفی کے دیرینہ دوست، جان عالم صاحب کے گھر پہنچے۔ 1956 سے صفی صاحب سے نیاز مندی رکھنے والے عالم صاحب اپنی بھاری گونجیلی آواز میں ابن صفی صاحب سے متعلق یادیں تازہ کررہے تھے۔


سوال: پہلے تو آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیے ?

جواب: میری عمر اس وقت ساڑھے اسی برس ہے۔ میں آٹھ بہن بھائیوں کے بعد پیدا ہوا تھا، میرے آٹھوں بہن بھائی انتقال کرگئے تھے

سوال: ابن صفی کے بارے میں  آپ کی عمومی رائے کیا ہے ?

جواب: وہ ایک انتہائی فقیر منش انسان تھے، طبیعت میں سادگی تھی۔


سوال: آپ کبھی الہ آباد گئے اور وہاں صفی صاحب کے کسی دوست احباب سے ملاقات ہوئی ?


جواب:  جی ہاں، میں 1979 میں ہندوستان کے شہر الہ آباد ہو کر آیا تھا، وہاں عباس حسینی سے جو ابن صفی کے پبلیشر تھے، ملاقات ہوئی- ان کی معاشی حیثیت مضبوط تھی۔ ان کی کوٹھی دو ہزار گز پر مشتمل تھی۔ وسیع و عریض دلان، دو گاڑیاں، ڈرائیور، ڈرائنگ روم میں پچاس کرسیاں وغیرہ۔۔۔۔۔ ابن صفی صاحب نے بھی میرے ساتھ الہ آباد جانا تھا لیکن بیماری کی وجہ سے نہ جاسکے۔ وہاں عباس حسینی صاحب نے ہنگامہ کیا ہوا تھا کہ بس آجاؤ۔

سوال: عباس حسینی سے تعلقات کر بارے میں بتائیے

جواب: ان سے وضع داری کا رشتہ تھا جو آخری وقت تک قائم رہا۔ میں آپ کو حقیقت بتاؤں کہ لکھنؤ اور دہلی کے پبلیشرز نے کتابوں کو چھاپنے کا اختیار لینے کی بہت کوشش کی۔ سادہ چیک تک ابن صفی صاحب کے سامنے رکھے لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ میرے پبلیشر صرف عباس حسینی ہی ہیں۔ یوں وضع داری نبھائی۔

سوال: آپ کی صفی صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی

جواب: یہ 1956 کی بات ہے۔ تبسم آرٹ پریس کے نام سے میری پرنٹنگ پریس تھی۔ میں ناظم آباد سے آکر اردو بازار میں واقع فضلی سنز سے چھپائی کا کام لے جاتا تھا۔ خیال آیا کہ کیوں نہ ابن صٍی صاحب سے ٹائٹل کی طباعت کا کام لیا جائے۔ اس پر فضل الرحمٰن صاحب جو فضلی سنز کے مالک تھے، کے والد کہ بھائی میاں کہلاتے تھے، انہوں نے ابن صفی صاحب کے نام رقعہ دیا۔

میں ڈھونڈتا ڈھونڈتا لالو کھیت پہنچا، وہاں لطیف صاحب ملے، انہوں نے ابن صفی کے ناظم آباد والے گھر کا پتہ دیا اور میں وہاں جا پہنچا۔ اس زمانے میں ناظم آباد والا گھر زیر تعمیر تھا۔ ڈرائنگ روم میں پتھر پڑے تھے اور وہیں ابن صفی ایک چارپائی پر لیٹے تھے۔ اب مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہی ابن صفی ہیں کہ جن کی شہرت چار دانگ عالم میں ہے۔ بال بکھرے ہوئے، شاید تازہ تازہ پان کھایا تھا، بان کی چارپائی ان کے بیٹھنے سے زمین پر جالگی تھی۔

خیر صاحب، جلدی سے خط حوالے کیا، اتنے میں کاغذ لگے ایک گتے پر نظر پڑی، اب کچھ یقین آیا کہ ادیب/ناول نگار ہیں۔ میرے لیے چائے منگوائی۔

میں نے کہا کہ صفی صاحب، آپ اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ مجھے بزنس دیں، آپ کے ساتھ چائے پی، یہی بہت ہے، لیکن آپ اپنے پسندیدہ ٹائٹل کی کاپی مجھے دیں تو میں آپ کو پرنٹ کرکے دوں گا، بھلے بزنس نہ ہو لیکن رسم و راہ ضرور ہونی چاہیے۔ ابن صفی صاحب نے لطیف صاحب کے نام خط دیا، میں پریس چلا گیا۔ کرنافلی پریس ڈھاکا کا عمدہ امپورٹڈ پیپر لیا اور اس کلینڈر پیپر پر جاسوسی دینا اور عمران سیریز کا ایک ایک ٹائٹل چھاپا اور ابن صفی صاحب کو لے جاکر دے دیا۔ وہ دیکھ کر سمچھ گئے اور خوب ہنسے اور کہا کہ آپ نے تو گویا مفت میں چھاپ دیا۔


سوال: آپ کی صفی صاحب سے آخری ملاقات کب ہوئی

جواب: میری آخری ملاقات ان کے انتقال سے ایک روز قبل ہوئی تھی۔ مجھے  ذرا برابر بھی یہ شائبہ نہ تھا کہ یہ میری ابن صفی سے آخری ملاقات ہے۔ دراصل، صفی صاحب کی طبعت 1979 کے اوائل سے خراب ہونا شروع ہوئی تھی، وہ ڈاکٹر رب (رب میڈیکل سینٹر کے مالک) اور ڈاکٹر ایس ایچ ایم زیدی (سید حسن منظور زیدی- مشہور آنکالوجسٹ یعنی کینسر کے اسپیشلسٹ) کے زیر علاج رہے تھے۔ 1979 کے آخر میں جناح اسپتال میں ایڈمٹ رہے۔

ان کے انتقال سے ایک روز قبل میں گھر گیا، انہوں نے مجھے اپنی خوابگاہ میں بلالیا، یہ ایک خلاف توقع بات تھی ورنہ ہمیشہ ملاقات ڈرائنگ روم میں ہی ہوا کرتی تھی، میں پہلی اور آخری بار ان کی خوابگاہ میں گیا تھا۔ کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ ان حالت ہرگز ہرگز تشویشناک نہ تھی۔ میں نے کہا کہ تیار ہوجاؤ، میں تمہیں لینے آیا ہوں، وہ نڈھال سے تھے اور میرے ساتھ چلنے پر آمادہ نہ ہوئے، کچھ دیر بیٹھ کر میں وہاں سے چلا آیا۔ یہ احساس تک نہ ہوا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ ہاں، جس وقت انہوں نے مجھے اپنی خوابگاہ میں بلایا تھا، اس وقت ماتھا ٹھنکا لیکن حالت دیکھ کر تسلی ہوگئی تھی کہ ایسی کوئی بات نہیں۔

اس وقت میری رہائش، ناظم آباد ہی میں تھی، ان کے (ابن صفی کے) گھر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر۔ روز صبح میں اخبار ضرور پڑھتا ہوں، یہ میری پرانی عادت ہے، اس روز سرخی پر نظر پڑی، ابن صفی کے انتقال کی خبر سامنے تھی، وہ دکھ بیان کرنا ناممکن ہے، کسے طور یقین نہ ہوتا تھا کہ یہ چلے گئے ہیں لیکن کیا کرتا، سامنے لکھا تھا۔


سوال: کوئی ایسا خاص واقعہ جو ابن صفی کی ذات سے متعلق ہو

جواب: ایک ایسی بات یاد آتی ہے جو میرے لیے خاصی حیران کن رہی اور وہ یہ کہ 1960 کے اواخر میں انہوں نے مجھ سے ایک بار کہا تھا کہ میں عنقریب اتنا بیمار ہونے جارہا ہوں کہ اگر کسی کو بتاؤں تو کوئی یقین نہ کرے۔ پھر وہ بیمار ہوئے اور تین سال (1961-1963، شیزوفرینیا) تک بیمار ریے۔

جناب شاہد منصور سے ملاقات – جنوری 21،

2010

In case if any error occurred while viewing this video, please click the icon of YouTube given on the lower side of this video

جنوری سن 2010 کا دن تھا اور ہم احمد صفی صاحب کے توسط سے جناب ابن صفی کے دیرینہ دوست، شاہد منصور صاحب کے سامنے بیٹھے تھے۔ 1953 سے صفی صاحب سے نیاز مندی رکھنے والے شاہد منصور یاد ماضی کو آواز دے رہے تھے۔ سوال تھا کہ آپ کی صفی صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی

شاہد منصور صاحب نے بتایا کہ صفی صاحب کی رہائش کراچی کے علاقے لالو کھیت میں تھی اور وہ اپنے دوستوں تیغ الہ آبادی (بعد میں مصطفی زیدی) اور احمد علی سید کے ہمراہ ادریس ہوٹل پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان دنوں لیاقت آباد میں کتوں کی بھرمار تھی جن سے بچنا بھی گویا ایک فن کہلاتا تھا ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، شاہد صاحب اپنے ایک دوست سے کالے رنگ کا ایک ڈنڈا مستعار لے آئے، بس پھر کیا تھا، بغل میں ڈنڈا دبائے وہ لیاقت آباد کی گلیوں میں کتوں کی یورش سے بے نیاز گھوما کرتے تھے —- ایک روز حسب معمول ادریس ہوٹل میں ابن صفی، تیغ الہ آبادی اور احمد علی سید، میرا جی پر گفتگو کر رہے تھے – بقول شاہد صاحب، ان حضرات کی گفتگو کے حوالے پرانے تھے اور یوں شاہد صاحب سے رہا نہ گیا اور وہ اپنے اس ہیبتناک ڈنڈے کے ہمراہ ان تینوں کی میز پر جا دھمکے اور میرا جی سے متعلق تازہ معلومات سمیت ان پر برس پڑے – تینوں خاموشی سے سنتے رہے اور پھر بنا کچھ کہے اپنی میز سے اٹھ کر چلے گئے —– شاہد صاحب کا بیان کہ اگے روز تینوں میں سے کوئی بھی ہوٹل میں موجود نہ تھا۔ تیسرتے روز ابن صفی اکیلے اپنی میز پر بیٹھے دکھائی دیے اور یوں اس دن کی ملاقات میں  شاہد صاحب کو یہ دلچسپ حقیقت معلوم ہوئی کہ تینوں احباب،  شاہد صاحب کو سی آئی ڈی والا سمجھ بیٹھے تھے کہ ان دنوں  سی آئی ڈی والوں کے پاس بھی اسی قماش کا ڈنڈا ہوا کرتا تھا ۔ بہرکیف وہ غلط فہمی تو دور ہوئی اور شاہد صاحب کی ابن صفی صاحب سے نیاز مندی کا سلسلہ شروع ہوا جو 1980 میں صفی صاحب کے انتقال تک جاری رہا۔

ہمارے ایک سوال کے جواب میں شاہد منصور نے بتایا کہ ایک ادیب تھے جو جاسوسی ناول لکھنے والوں کو برا بھلا کہتے تھے۔ ایک روز جب شاہد صاحب ان ادیب کے گھر گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ موصوف کے تکیے کے نیچے ابن صفی کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ بقول شاہد صاحب، ” میں نے اس دن اس کو پانچ سو گالیاں دیں

ابن صفی کے متعلق لکھی گئی شاہد صاحب کے تحریریں، نایاب تصاویر اور بہت سا مواد 1997 میں شاہد صاحب کے لیاقت آباد والے گھر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ضائع ہوگیا جس کا قلق شاہد صاحب کو آج بھی ہے۔

ابن صفی کے ہمراہ منائی گئی ایک پکنک کا دلچسپ احوال ہمیں شاہد صاحب نے سنایا۔ اس روز پکنک  کے لیے سینڈزپٹ کا انتخاب ہوا تھا۔ ابن صفی کے والد، صفی اللہ بھی اس پکنک میں شامل تھے۔ سب لوگ رات میں سمندر پر پہنچے تھے اور ہٹ میں ٹھہرے جہاں رات گئے صفی اللہ صاحب اپنی نگرانی میں پائے پکواتے رہے جو علی الصبح کھائے گئے۔ سہہ پہر میں سب لوگ واپس لوٹے۔

شاہد صاحب نے مزید بتایا کہ ابن صفی شکار کے لیے زیادہ تر ملیر اور لسبیلہ جاتے تھے۔ کبھی کبھار اوتھل تک بھی جایا کرتے تھے۔

ابن صفی سے شاہد صاحب کی آخری ملاقات ان کے انتقال سے ایک روز قبل ہوئی تھی۔ اس روز (جولائی 25، سن 1980) شاہد صاحب سہہ پہر ساڑھے تین بجے صفی صاحب کے ناظم آباد میں واقع گھر گئے اور شام پانچ بجے واپس لوٹے- بقول شاہد صاحب، ان کو ذرا برابر بھی یہ شائبہ نہ تھا کہ یہ ان کی ابن صفی سے آخری ملاقات تھی۔ متذکرہ ملاقات میں ابن صفی، شاہد صاحب سے شکرال سیریز کے بارے میں گفتگو کرتے رہے تھے۔ اسی رات مشتاق احمد قریشی، اپنی جیپ پر سوار، شاہد صاحب کے گھر رات کے ساڑھے تین بجے آئے اور ابن صفی کے سانحہ ارتحال کی روح فرسا خبر سنائی۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابن صفی صاحب کے پڑھنے والے ان کی تحریروں کو حد درجہ انہماک سے پڑھتے ہیں۔ ان کی عمران سیریز کے قارئین کو یہ یاد ہوگا کہ صفی صاحب نے عمران سیریز کے ایک ناول “آگ کا دائرہ” – نمبر 110 میں ایک کردار (جو دراصل تھریسیا ہی تھی) ثمینہ سالومن کی زبانی ایک نثری نظم کہلوائی تھی۔ ثمینہ سالومن یا تھریسیا نے یہ نثری نظم شہر کی ایک ادبی انجمن کی ماہانہ نشست میں پڑھی تھی۔ شاہد منصور صاحب نے یہ حیریت انگیز انکشاف کیا کہ متذکرہ نظم دراصل ابن صفی کی اپنی کہی ہوئی تھی، مزید انکشاف یہ نظم ناول “آگ کا دائرہ” میں طوالت کے خوف سے ادھوری حالت میں درج کی گئی اور اس وقت مکمل حالت میں ابن صفی کی اپنی تحریر میں شاہد منصور صاحب کے پاس محفوظ ہے —- پچھلے دنوں شاہد صاحب کو یہ اپنے پرانے کاٍغذات کھنگالتے ہاتھ لگی۔ یہاں ہم ابن صفی صاحب کی اس نظم بعنوان “صفر بٹا صفر” کو اپنے خوش ذوق قارئین کی نذر کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے  شاہد منصور صاحب کی زبانی کچھ احوال اس نظم کے لکھے جانے کا سُنتے جائیے

” سال بالکل ٹھیک ٹھیک تو مجھے (شاہد منصور) یاد نہیں مگر یہ سن 70 کی دہائی کے بالکل ابتدائی برسوں کی بات ہے کہ افسر آذر اور شمیم نوید ایک دن مجھے ملنے آگئے۔ یہ دونوں نثری نظموں کے پُرجوش مبلغ تھے بلکہ شمیم نوید تو نثری نظموں اور ان کے فروغ سے نہ جانے کیوں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ نثری نظموں کے موضوع پر میرے اور ان کے درمیان پہلے ہی گرما گرم بحثیں ہوچکی تھیں کیونکہ نثری نظم کو میں کسی صورت شاعری تسلیم کرنے لیے تیار نہیں تھا۔ اس دن بھی چائے وٍغیرہ سے فارغ ہوتے ہی ہم میں یہ لایعنی مگر گرماگرم بحث دوبارہ شروع ہوگئی۔ وہ مجھر قائل کرنے کی ٹھان کر آئے تھے اس لیے نثری نظم کی تعریف و توصیف میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میرا یہ کہنا تھا کہ نہیں۔ نثری نظم کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تقسیم ہند سے بھی کوئی تیس برس پہلے سے برصغیر میں رائج “ادب لطیف/انشائے لطیف” کی بھونڈی سی نقل ہے جو رابندر ناتھ ٹیگور کی “گیتان جلی” کر اردو ترجموں سے اردو میں رائج ہوئی۔

اس بحث کا کوئی نتیجہ تو نکلنا ہی نہیں تھا۔ وہ لوگ تو چلے گئے مگر اس بے تسلی اور بے نتیجہ بحث کی وجہ سے جو طبیعت میں جھلاہٹ و انتشار پیدا ہوگیا تھا اس نے مجھے بہت بے چین رکھا۔ آخر اسی جھونجھلی میں، میں (شاہد منصور) نے طبیعت کا غبار دور کرنے کے لیے “بندہ وبشر” کے عنوان سے نثری نظم کے خلاف ایک کٹیلی طنزیہ نظم   لکھ ہی ڈالی۔ نظم  مکمل ہوچکی اور دل کو کچھ اطمینان ہوا تو اسے ابن صفی کو سنانے کی سوجھی۔

سہہ پہر ہوچکی تھی جب میں بس سے ناظم آباد چورنگی اتر کر ابن صفی کے دفتر کی طرف بڑھا۔ موصوف حسب معمول دفتر میں دربار لگائے بیٹھے تھے۔ چار پانچ آدمیوں کا مجمع تھا اور اپنی گہری گونجیلی آواز میں استاد محبوب نرالے عالم کوئی “فارسا” قسم کی چیز سنا رہے تھے۔ میں نے چق اٹھائی اور داد دینے والوں میں شریک ہوگیا۔ استاد کی فارسا آخری دمُوں پر تھی اس لیے ختم ہوگئی۔ استاد نے ٹھنڈی چائے کا آخری گھونٹ بھرا، اپنا پورٹ فولیو اٹھایا اور اپنے اصالیوں موالیوں کے ساتھ رخصت ہوگئے۔ جب سناٹا اور تنہائی ہوگئی تو ابن صفی نے میری طرف دیکھا، دھیرے سے مسکرائے اور بولے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی نئی چیز ہوگئی جبھی اس ڈھلتی دھوپ میں چلے آئے ہو۔ ہم نے نظم کا پرچا جیب سے نکالا، مجادلے کا مختصر احوال بیان کیا اور انہیں نظم سنانے لگا۔

ابن صفی چہرے پر نرم سی مدھم مسکراہٹ سجائے میری نظم “بندہ بشر” سنتے رہے اور موقعہ بموقعہ داد دیتے رہے اور بعض شعروں کو مکرر پڑھواتے رہے۔ نظم ختم ہوئی تو ان کے چہرے پر جیسے سورج اتر آیا اور ان کی مسکراہٹ جگمگاتی ہوئی دھوپ بن گئی۔ انہوں نے دراز سے ایک کاغذ نکالا اور مجھ سے مخاطب ہوکر بولے۔ آج تو مجھ سے بھی ایک نثری نظم سرزد ہوگئی ہے جس کا عنوان “صفر بٹا صفر” ہے، ذرا دیکھنا تو سہی کیسی ہے۔

آج صبح ایک پرانے حوالے کی تلاش میں، میں (شاہد منصور) اپنا پرانے کاغذات کا صندوق کھنگال رہا تھا کہ اچانک ایک پرانا بوسیدہ کاغذ ہاتھ آگیا۔ اس کی تہیں کھول کر دیکھا تو وہی ابن صفی کی “صفر بٹا صفر” کی نقل تھی۔ بڑی دیر تک دم بخود بیٹھا رہا۔ بیتی گھڑیاں فلم کی طرح آنکھوں کے آگے گزرتی چلی گئیں۔ بڑی دیر کے بعد میری بیوی نے آواز دی تو یاد آیا کہ میں کہاں ہوں۔

ابن صفی کا مجموعہ کلام ابھی تک نہیں چھپا ہے۔ اس لیے یہ یادگار نظم خوش ذوق قارئین کی نذر ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے یہ ابن صفی بلکہ اسرار ناروی کی اکلوتی نثری نظم ہے۔ اور مجھے کچھ ایسا بھی یاد پڑتا ہے کہ اس نظم کے کچھ مصرعے انہوں اپنے کسی جاسوسی ناول میں بھی استعمال کیے تھے۔

(شاہد صاحب جس ناول کا حوالہ دے رہے ہیں وہ عمران سیریز کا ناول نمبر 110 آگ کا دائرہ ہے – راشد اشرف)

آئیے ہم آپ مل کر نظم پڑھیں اور ابن صفی کی یاد تازہ کریں

“صفر بٹا صفر”

ٹیلی فون پر
مسز صائمہ سلیمان نے گہری سانس لیتے ہوئے
اپنی گونج دار آواز میں مزے لے لے کر کہا
میری جان تم غلط سمجھی ہو
بات بال پوائنٹ کی نہیں ہے
بال پوائنٹ تو عصر تازہ کی ایجاد ہے
جس نے دوات اور قلم بلکہ فاؤنٹین پین بھی
ایک عرصے سے متروک کررکھے ہیں
اب کسی کو بھی
پتلی گول مخروطی لکڑی کے سرے پر لگے ہوئے
نوک دار نب والے قلم کی ضرور نہیں
لکھنے والے تو ہر چیز سے لکھ لیتے ہیں
چاہے وہ کوئلہ ہو برش ہو یا انگلی ہو
اب تم خود ہی دیکھ لو
میرا کتا اپنی دم کو نیلی روشنائی میں ڈبو ڈبو کر
میرے شوہر کی قمیض کی پشت پر
میرا ٹیلی فون نمبر لکھ رہا ہے
ٹیلی فون کا نمبر
جس کی ابتدا صفر ہے
اور انتہا بھی
خدا جانتا ہے بس صفر ہی ہے
بس ڈائل گھومتا رہتا ہے
اور ہندسے گزرتے رہتے ہیں
ابھی تو صرف پانچواں ہندسہ چل رہا ہے
ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے
آٹا بھی چینی بھی سبزی بھی اور گوشت بھی
روپے میں قوت خرید باقی نہیں رہی ہے
ڈالر جو روز بروز مہنگا ہوتا جارہا ہے
لوگ ڈالر کمانے دبئی جارہے ہیں
پھر بےچارہ روپیہ کیا کرے
زندگی کتے کی دم ہوکر رہ گئی ہے
جو اب کبھی سیدھی نہیں ہوگی
روپیہ گول ہوتا ہے
صفر بھی گول ہوتا ہے
اور ٹیلی فون کا ڈائل بھی گول ہوتا ہے
اور گول گول گھومتا ہے
عقل کی طرح
ہندسے ختم نہیں ہوں گے
اور صفر بھی آتے ہی رہیں گے
کیونکہ ابتدا بھی صفر ہے
اور شاید انتہا بھی
لیکن یہ بیچ کے ہندسے
کیا کہا زور سے بولو
بور ہو گئی ہو
تمہارا سر صف
ر کی تکرار سن سن کر چکرا رہا ہے
اچھا۔۔۔۔۔ تو پھر
بائی بائی
خدا حافظ




Saturday, January 23rd, 2010