Archive for November, 2009

Ahmad Safi’s Interview at FM-105 (جناب احمد صفی کا ایف ایم -105 پر انٹروہو-نومبر 26، 2009)

Rashid Ashraf – Administrator: wadi-e-urdu.com
راشد اشرف – ایڈمنسٹریٹر: وادی اردو ڈاٹ کام

جناب احمد صفی کا ابن صفی کے حوالے سے ایف ایم -105 پر انٹروہو-نومبر چھبیس دو ھزار نو کو نشر ہوا

Thursday, November 26th, 2009

Opening of Ibne Safi Walfare Eye Hospital (ابن صفی ویلفئیر آئی ہسپتال کا افتتاح)

Rashid Ashraf – Administrator: wadi-e-urdu.com

راشد اشرف – ایڈمنسٹریٹر: وادی اردو ڈاٹ کام

اکتوبر 26، سن دو ہزار نو کو لانڈھی ، کراچی میں “ابن صفی ویلفئیر آئی ہسپتال کا افتتاح” ہوا. ۔ہسپتال کے روح رواں ڈاکٹر سجاد ابن صفی کے صاحبزادے ڈاکٹر ایثار صفی مرحوم کے ساتھیوں میں سے ہیں۔

Monday, November 16th, 2009

Anwar Siddiqui on Ibne Safi (انکا، اقابلا، سونا گھاٹ کا پجاری کے مصنف انوار صدیقی سے ملاقات)

Rashid Ashraf – AdministrView Postator: wadi-e-urdu.com
راشد اشرف – ایڈمنسٹریٹر: وادی اردو ڈاٹ کام

انکا، اقابلا، سونا گھاٹ کا پجاری کے مصنف انوار صدیقی سے مل اقات نومبر 14 دو ھزار نو


اضافی تصاویر میں احمد صفی صاحب نمایاں ہیں، یہ ملاقات دسمبر چھ دو ھزار نوکے دن انوار صاحب کی قیام گاہ پر ہوئی، تصاویر میں احمد صفی صاحب کے بیٹے اسمر صفی اور منیر احسن بھی شریک تھے

شامل نظر مضمون و ملاقات ، جناب انوار صدیقی کی وادی اردو کے لیے خاص عنایت ھے ورنہ صدیقی صاحب نام و نمود و شہرت سے کوسوں دور رہنے والے شخص ہیں۔ منذکرہ مضمون رابطہ میں سن دو ھزار سات میں شائع ہوا تھا۔ متذکرہ مضمون میں جناب انوار صدیقی نے ابن صفی صاحب کا تذکرہ بڑے لگاؤ کے ساتھ کیا ہے.

ستمبر انیس سو چونتیس کے پہلے دن الہ آباد میں پیدا ہوئے، عمر عزیز کے بچھتر برس پورے کر چکے۔ سلسلہ نسب اکبر الہ آبادی سے ملتا ہے اور خود سعادت حسن  منٹو کے شیدائی ہیں۔ والد مرحوم پروفیسر محمد انوار الحق اردو و فارسی کے عالم ہونے کے ساتھ  ساتھ ایم اے ایل ایل بی بھی تھے۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ پروفیسر انوار الحق، الہ آباد یونیورسٹی میں ایشیا کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار، جناب ابن صفی کے استاد تھے۔

انوار صدیقی نے اردو پڑھنے والوں کو بے شمار کہانیاں و قصے دیے۔ ان بے مثال کہانیوں میں انکا، اقابلا، سونا گھاٹ کا پجاری، غلام روحیں، طاغوت اور بھنور جیسی کہانیاں شامل ہیں۔ گوشہ نشینی و قناعت پسندی مزاج کا حصہ ہیں۔ غضب کے ذود رنج اور بلا کے ذود حس ہیں۔

انوار صدیقی کے ابن صفی صاحب کے ساتھ تعلق کو ایک طویل عرصہ گزر چلا، ان کے ساتھ گزارے ہوئے کئی دلچسپ لمحوں کے امین ہیں۔ ہر لحاظ سے ایک عہد ساز شخصیت اور قدیم روایتوں کے پاسدار۔  کتنے ہی ایسے واقعات ہیں جو ان کے سینے میں دفن ہیں۔ لیکن ان تمام واقعات کو قلم بند کرے سے گریزاں۔ راقم کے پرزور اصرار پر کہا کہ قلم سے کوئی ناگفتہ بات نکل گئی تو کون ذمہ دار ہو گا ؟ تین گھنٹے کی طویل نشست میں حاصل کردہ چند باتیں انوار کی اجازت سے پیش خدمت ہیں
:

- استاد محبوب نرالے عالم کو پہلی مرتبہ ابن صفی صاحب سے ملوانے والے انوار صدیقی ہی تھے۔ اس بارے میں انکشاف کیا کہ ایک مرتبہ صفی صاحب کے ساتھ گلی میں کھڑا تھا کہ سوندھے چنوں کا بندوبست لیے استاد محبوب نرالے عالم کا وہاں سے گزر ہوا۔  استاد کو میں نے آواز دی اور پاس بلا لیا۔ چند ہی لمحوں میں استاد ابن صفی سے بے تکلف ہو گئے۔ میں وہاں سے چلا آیا۔ کچھ دنوں بعد ایک دن ابن صفی بولے ‘یار کس آدمی کو میرے پیچھے لگا ڈالا، وہ اکثر آتا ہے اور دیر گئے بیٹھا کرتا ہے اور پھر میرا وقت بھی صرف ہوتا ہے‘ ۔  میں نے (انوار صدیقی) کہا کہ صفی صاحب، یہ شخص بھی گویا اسم بامسمی یے، اس کو اپنے ناولز میں پیش کیجیے۔ ابن صفی مان گئے۔


اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پھیری لگا کر چنے بیچنے والے شخص کو صفی صاحب نے ایک زندہ و جاوید کردار کی شکل دے کر امر کر دیا

- سائکل پر ابن صفی صاحب اور میں (انوار صدیقی) اکثر مولوی مسافر خانے کی طرف مشہور زمانہ سیخ کے کباب کھانے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ صفی صاحب نے کباب کھا کر ہاتھ چہرے پر پھیر لیا جبکہ میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے، اس پر صفی صاحب بولے ‘ارے بھئی، یہ کباب کھا کر ہاتھ دھونے سے تو خوشبو جاتی رہے گی‘ ۔۔۔ اس دن کے بعد سے میں نے بھی ان کی تقلید میں ویسا ہی کرنا شروع کیا۔

ابن صفی ایک عہد ساز شخصیت تھے، روتے ہووں کو ہنسانے والے۔

- میرے (انوار صدیقی) والد، پروفیسر محمد انوار الحق ابن صفی کی شاعری کے برے میں کہا کرتے تھے کہ ‘ اسرار کی شاعری اگر فیض کے برابر نہیں تو کسی صورت اس سے کم بھی نہیں‘ ۔۔۔ (اس موقع پر انوار صدیقی نے راقم کو ابن صفی کی ایک نظم زبانی سنائی

- ایک مرتبہ صفی صاحب کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا کی لفظ خواجہ سرا کا متبادل تو بتائیے۔ میں (انوار صدیقی) نے کئی متبادل الفاظ بتائے لیکن پھر یہ ابن صفی ہی تھے جو اپنی مخصوص انداز میں پان کی پیک پھینک کر آئے اور کہا ” غیر جانب دار” اور ہم سب پھڑک اٹھے۔

-  ایک صاحب تھے جن کی ایک آنکھ کی پتلی بالکل سفید تھی اور دوسری میں سیاہ داغ تھا اور وہ باریش بھی تھے، کسی معاملے میں وہ صاحب ابن صفی سے معاملہ بگاڑنے کے مرتکب ٹھہرے، صفی صاحب نے اور تو ان سے کچھ نہ کہا لیکن ایک با ان صاحب کا ذکر آنے پر مجھ (انوار صدیقی) سے بولے ” یار جانے دو اس ع غ شیخ کو” ( ع سے مراد ان صاحب کی وہ آنکھ جو سفید تھی، غ سے مراد سیاہ داغ والی آنکھ اور شیخ ٹھہرا ان کے باریش ہونے کی طرف اشارہ


Sunday, November 15th, 2009

Ibne Safi’s Artiest Vilayet Ahmed (ابن صفی کے آرٹسٹ ولائیت احمد سے ملاقات)

Rashid Ashraf – Administrator: wadi-e-urdu.com
راشد اشرف – ایڈمنسٹریٹر: وادی اردو ڈاٹ کام

ابن صفی کے ناولز کے لیے سرورق بنانے والے آرٹسٹ ولائیت احمد سے ملاقات ہمراہ تصاویر۔ 14-11-2009

ولائیت احمد صاحب ان آرٹسٹوں میں سے ایک ہیں کہ جنہوں نے جناب ابن صفی کی جاسوسی کتب کے لیے سرورق ڈئزاین کیے۔ فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کے توسط سے یہ ملاقات 14 نومبر دو ھزار نو کی صبح،  ولائیت احمد صاحب کی قیام گاہ پر ہوئی۔ ابتدائی دو تصاویر06 دسمبر دو ھزار نو کی ہیں جن میں جناب احمد صفی اپنے بیٹے کے ہمراہ ولائیت صاحب کے ساتھ نمایاں ہیں.

ولائیت احمد صاحب پاکستان میں ڈاٹ ورکس میں پینٹنگ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص ہیں۔ آپ پیشے کے لحاظ سے ایک بینکار تھے اور اب کراچی میں ریٹائرمینٹ کی زندگی گزار ریے ہیں۔ پڑھنے والوں کے لیے یہ جاننا باعث دلچسپی ہو گا کہ معروف علمی و ادبی شخصیت پروفیسر وقار عظیم، ولائیت احمد صاحب کے سگے ماموں تھے۔ پروفیسر وقار کا ذکر اے حمید صاحب نے اپنی کتاب ‘چاند چہرے‘ میں بڑی عقیدت سے کیا ہے۔

ولائیت صاحب کی ابن صفی صاحب سے پہلی ملاقات سن 1958 میں ہوئی اور اس کے محرک جناب انوار صدیقی (مصنف اقابلا، انکا و سونا گھاٹ کا پجاری) تھے جو ولائیت صاحب کو ابن صفی کے فردوس کالونی والے آفس میں لے کر گئے تھے۔ بقول ولائیت صاحب ” ملاقات سے قبل ھم سمجھتے تھے کہ صفی صاحب کی شخصیت شاید کرنل فریدی جیسی ہو گی، منہ میں سگار، سوٹ میں ملبوس وغیرہ وغیرہ لیکن  صفی صاحب تو ایک انتہائی سادہ مزاج شخص نکلے۔ خیر ہم نے ان (ابن صفی)  سے خود ابن صفی کے بارے میں دریافت کیا، ہمارہ سوال تھا کہ صفی صاحب کہاں ہیں ؟ انہوں نے جھٹ جواب دیا: ‘ابھی ابھی باہر گئے ہیں   (ابن صفی صاحب کا اشارہ ان کے والد صفی اللہ صاحب کی طرف تھا جو اسی وقت اٹھ کر باہر گئے تھے) بہرکیف، شاید ہم نے اپنی اس کیفیت کا ان سے اظہار کردیا تھا یا وہ خود سمجھ گئے، مسکرائے اور کہا کہ کیا آپ نے میری ‘زمین کے بادل‘ والے تصویر نہیں دیکھی (زمین کے بادل ان ہی دنوں شائع ہوا تھا)۔

ولائیت صاحب نے 1958-59 کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ابن صفی، میں (ولائیت احمد) اور انوار صدیقی، سیر و شکار کے لیے ملیر گئے۔ ابن صفی صاحب کے پاس ڈیانا-ون کی ایئر گن تھی۔ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھے مجھے جو سوجھی تو دھائیں سے اوپر بیٹھے کووں کے غول پر فائر کر ڈالا، ایک کوا مارا گیا اور درخت تلے بیٹھی ایک خاتون اور ان کے شوہر کے عین درمیان آ گرا اور وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہوا۔ دن گزار کر ہم لوگ بذریعہ بس لوٹ آئے۔

احمد صفی صاحب کا اضافی نوٹ: جرمن میک کی ایئرگن ڈایانا ۔ ۳۵ تھی۔ گن ناقابلِ استعمال حالت میں آج بھی موجود ہے تصویر فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس گن کے اندر آ کر میرے (احمد صفی) داہنے ہاتھ کی انگشت شہادت کا اوپری حصّہ بھی کٹ چکا ہے۔ تمجھے اسی برانڈ کی ڈایانا۔۱۶ سولہ  بطور انعام پانچویں جماعت میں اول آنے پر دی گئی تھی۔

ہمارے ایک سوال کے جواب میں،  ولائیت صاحب نے یہ دلچسپ  بات بتائی کہ ابن صفی صاحب نے  ان کو ابنی کتاب کا ٹائٹل بنانے کا اولین معاوضہ دس روپے دیا تھا جو بعد میں بڑھتے بڑھتے دو سو کے لگ بھگ ہو گیا تھا۔

ولائیت صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ یہ صفی صاحب تھے جنہوں نے ان کو ٹائٹل بنانے کا مشورہ دیا، اس وقت ولائیت صاحب سوینیر ٹوبیکو  میں ملازمت کر ریے تھے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ میں ابن صفی صاحب کو بیک وقت چار پانچ ٹائٹل بنا کر دے دیا کرتا تھا اور وہ اس کو اپنے ناول میں استعمال کر لیا کرتے تھے۔

ولائیت صاحب نے بتایا کہ ابن صفی اپنے سے چھوٹوں سے شفقت برتا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 1961 کا ایک واقعہ بتایا کہ میں سائیکل پر کہیں جارہا تھا اور اپنی آسانی کے لیے ایک ٹرک کا عقبی حصہ تھامے ہوئے تھا تاکہ پیڈل نہ مارنے پڑیں، اس حالت میں کہیں ابن صفی صاحب (جو وہاں سے ایک رکشے پر گزر رہے تھے) نے دیکھ لیا  اور روک کر ڈانٹا کہ اور کہا کہ یہ کیا حماقت ہے۔

ڈاکٹر ایثار احمد صفی مرحوم کے بارے میں ولائیت صاحب نے کہا کہ ‘ بہت پیارا آدمی تھا‘

ولائیت صاحب نے ابن صفی کے انتقال والے دن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو اس سانحے کی اطلاع مشتاق احمد قریشی نے دی۔ ” اب مجھے یہ تو یاد نہیں کہ کون بچہ تھا لیکن یہ اچھی طرح یاد یے کہ ابن صفی صاحب کے ایک کمسن بچے کو میں نے اپنی گود میں اٹھایا ہوا تھا، بچہ بھی رو رہا تھا اور ساتھ ساتھ میں بھی زاروقطار رو رہا تھا۔

احمد صفی صاحب کا اضافی نوٹ: ابّو کے انتقال کے دن سب سے چھوٹا بھائی افتخار بھی سولہ سال سے کم نہیں تھا  لہٰذا یہ بیان قرینِ حقیقت نہیں۔ اب نا معلوم کون بچّہ ان کی گود میں تھا؟

Saturday, November 14th, 2009