Ibne Safi-Sakhsiyat Aur Fan-February 2013

Rashid Ashraf-zest70pk@gmail.com

“ابن صفی-شخصیت اور فن” پر بی بی سی کا تبصرہ درج ذیل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے:

http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2013/04/130413_book_review_zz.shtml

یہ تبصرہ 13 اپریل 2013 کی رات شائع ہوا۔

TABSARA PUBLISHED IN JANG, SUNDAY MAGAZINE ON 20 APRIL, 2013:

http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=19190

Ibne Safi Seminar-Dehli-14-16 Dec, 2012

Rashid Ashraf

zest70pk@gmail.com

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو اکادمی کے زیر ِاہتمام ابن ِصفی کی شخصیت و فن پر عظیم الشان سہ روزہ قومی سمینار

(بشکریہ جناب امین بھایانی)

دہلی سے خصوصی تعاون: جناب عبدالحئی، نوشین رحمان، رویدا ضمیر، محمد علم اللہ اصلاحی

دہلی کے تعلیم و تدریسی شبعے سے وابستہ اہم نامور ترین شخصیات کی شرکت

ہندوستان سرکار کے وزیر مملکت برائے فروغِ انسانی وسائل جتن پرساد مہمان خصوصی اور سنجیو متّل، جوائنٹ سکریڑی، وزارت ثقافت،مہمان ِاعزازی

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو اکادمی مشترکہ طور پر برصغیر پاک و ہند کے اردو جاسوسی ادب کے نابغہ ِروزگار مصنف جناب ابن ِصفی مرحوم پر 14 تا 16 دسمبر 2012ءتک سہ روزہ قومی سمیناز کا بعنوان “ابن صفی” شخصیت اور فن” ایڈورڈ سعید ہال میں اہتمام کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ سمینار میں پاکستان سے بشمول فرزند ابن صفی ڈاکٹر احمد صفی و دیگر افراد، کسی کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

اس سمینار کا افتتاحی اجلاس پہلے روز یعنی 14 دسمبر بروز جمعہ صبح 11 بجے سی-آئی-ٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں منعقد کیا جائے گا ۔ اس اجلاس کے مہمان ِ خصوصی ہندوستانی حکومت کی وزارت برائے فروغ ِانسانی وسائل کے وزیر ِمملکت جتن پرساد ہیں جبکہ شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ، نئی دہلی نجیب جنگ کرسی ِصدارت پر فائز ہوں گے ۔ ہندوستان کے وزیر برائے خوراک و رسد ہارون یوسف اور ممتاز و معروف افسانہ نگار جناب سید محمد اشرف مہمانانِ اعزازی ہیں۔
اس اجلاس کا کلیدی خطبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہی کے پروفیسر ایمریٹس ونامور ادیب و نقاد پروفیسر شمیم حنفی مرحمت فرمائیں گے جبکہ اردو اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر اختر الواسع خیرمقدمی کلمات اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر خالد محمود جو کہ سمینار کے کنو ینر بھی ہیں، تعارفی کلمات پیش کرینگے۔سہ روزہ سمینار کے افتتاحی اجلاس کے اختتام پر جناب انیس اعظمی سکریڑی اردو اکادمی دہلی مندوبین و شرکاءکو اظہار ِتشکر پیش کر یں گے جبکہ اجلاس کی نظامت کے فرائض جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے پروفیسر شہپر رسول کو سونپے گئے ہیں۔
کنو ینرسمینار پروفیسر خالد محمود اور سکریڑی اردو اکادمی انیس اعظمی کی جانب سے جاری کردہ سمینار کی کاروائی کے ایجنڈے کے مطابق 15 دسمبر بروز ہفتہ کو ہونے والے پہلا اجلاس صبح 10 تا دوپہر 1 بجے جاری رہے گا ۔ مجلس ِصدارت میں پروفیسر مظفر حنفی، پروفیسر عتیق اللہ اور جناب اے رحٰمن کے نام ِنامی شامل ہیں جبکہ پروفیسر آفاق احمد، پروفیسر وہاج الدین علوی، فاروق ارگلی، فرزند اوپندر ناتھ اشک نیلابھ، عارف اقبال اور ڈاکٹر خالد جاوید اپنے مقالہ جات پیش کریں گے ۔ مذکورہ سیشن میں اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم احمد سرانجام دیں گے ۔
دوسرا اجلاس اسی دن دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا ۔ اس اجلاس کی مجلس ِصدارت میں پروفیسر صدیق الرحمنٰ قدوائی، پروفیسر سید محمد ساجد اور پروفیسر شہناز انجم کے نام ِ شامل ہیں۔ اس دوسرے اجلاس میں قاضی مشتاق احمد، شعیب نظام، قائد حسین کوثر، ڈاکٹر شان فخری، ڈاکٹر رضی الرحمنٰ اور مختار ٹونکی اپنے اپنے مقالہ جات پیش کریں گے۔ اجلاس کے اس دوسرے سیشن میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم احمد انجام دیں گے ۔
تیسرا اجلاس جو کہ 16 دسمبر بروز اتوار کی صبح 10 بجے لیکر دوپہر 1 بجے تک منعقد کیا جائے گا ۔ مجلس ِصدارت میں پروفیسر عبد الحق، پروفیسر زاہد حسین خاں، محترمہ میناکشی ٹھاکر کے نام شامل ہیں۔ جبکہ پروفیسر انیس الرحمنٰ، پروفیسرشافع قداوئی، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی، دینش سرینت، فرحت احساس، خان احمد فاروق اور ڈاکٹر عمران احمد عندلیب اپنے مقالہ جات پڑھیں گے۔ اجلاس کے اس تیسرے سیشن کی نظامت ڈاکٹر سرور الہدیٰ کے سپرد کی گئی ہے۔
سمینار کا چوتھا اجلاس اسی روز دوپہر دو بجے سے ساڑھے چار بجے منعقد کیا جائیگا۔ مجلس ِصدارت میں پروفیسر صادق، پروفیسر محمد شاہد حسین اور پروفیسر شہزاد کے نام شامل ہیں۔ جبکہ پروفیسر علی احمد فاطمی، ڈاکٹر یعقوب یاور، ڈاکٹر قمر الہدیٰ فریدی، سیفی سرونجی، لئیق رضوی اور سہیل انجم اپنے اپنے مقالہ جات پیش کریں گے ۔ اجلاس کے اس چوتھے اور آخری سیشن کی نظامت ڈاکٹر کوثر مظہری سر انجام د یں گے ۔
اسی روز 16 دسمبر شام 5 بجے اس عظیم الشان سہ روزہ سمینار کے اختتامی اجلاس کے مہمان ِخصوصی جناب سید شاہد مہدی، نائب صدر، آئی-سی-سی-آر، سابق شیخ الجامعہ ملیہ اسلامیہ ہوں گے جبکہ صدارت پرو وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر ایس-ایم-راشد کریں گے ۔ اس اختتامی اجلاس کے مہمان ِاعزازی سنجیو متل ، جوائنٹ سکریڑی،وزارت ثقافت، حکومت ِہند ہو ں گے اور مقررین میں کنو ینر سمینار کمیٹی، اردو اکادمی پروفیسر عبدالحق اور وائس چیرمین، اردو اکادمی پروفیسر اختر الواسع شامل ہوں گے ۔ آخر میں کنو ینر پروفیسر خالد محمود اظہار ِتشکر پیش کریں گے جبکہ نظامت کے فرائض اردو اکادمی کے سکریڑی جناب انیس اعظمی انجام دیں گے ۔
مذکورہ سمینار جناب ابن ِصفی مرحوم کے فن وشخصیت پر ہونے والا سب سے بڑا اور اہم ترین سمینار ہوگا جس میں حکومت بھارت کی اعلی شخصیات ابنِ صفی مرحوم کو زبردست خراج ِتحسین پیش کریں گی اور ساتھ ہی ساتھ دہلی کے تعلیم، تدریس اور ادب کے میدان کی اہم ترین و نامور شخصیات کو مرحوم کی عظیم شخصیت اور لازوال فن پر مقالاجات پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ امید کی جاتی کہ اس سہ روزہ سمینار میں پیش کیے جانے والے 25 مقالاجات یقیناً ابنِ صفی مرحوم کی شخصیت اور فن کے اہم ترین پہلوو¿ں کو نہ صرف اجاگر کریں گے بلکہ اہم ترین مخفی گوشوں پر بھی روشنی ڈالتے نظر آئیں گے۔ دہلی سے موصول شدہ اطلاعات کے مطابق اس بات کا قویٰ امکان ہے کہ اس سہ روز سمینار کی مکمل کاروائی کو کتابی صورت میں پیش کیا جائیگا جو کہ بلاشبہ اردو ادب کے لیے بالعموم اور ابنِ صفی کے مداحین کے لیے بالخصوص ایک اہم ترین دستاویز ثابت ہوگی۔

ابنِ صفی مرحوم کے پاکستان اوردنیا بھر میں بسنے والے مداحین نے حکومت ِپاکستان اور پاکستان بھر میں قائم آرٹس کونسلوں سے بھرپور اپیل کی ہے کہ بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پاکستان کے اس عظیم و نامور فرزند کے شایان شان ایسی ہی ایک کانفر نس کا انعقاد ان کے یوم پیدائش پر باقاعدگی کے ساتھ کیا جانا چاہیے اور حکومت کی جانب سے ابن صفی مرحوم کے لیے بعد از مرگ تمغہ ِحسنِ کارکردگی کا بھی فوری طور پر اعلان اب ایک ناگزیر امر بن چکا ہے۔



A New Book On Ibne Safi-June 2012

Rashid Ashraf: zest70pk@gmail.com

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کيا
مرتب و مولف: راشد اشرف

کتاب پر بی بی سی کی رپورٹ:

http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2012/09/120915_book_review_ibn_e_safi_tim.shtml

یہ کتاب جناب ابن صفی پر 1972 سے 2012 کے درمياني عرصے ميں لکھے گئے مشاہير ادب کے مضامين کے انتخاب پر مبني کتاب پرسوں شائع ہوئی۔ کراچي کے اردو بازار ميں واقع ويلکم بک پورٹ اور فضلی سنز پر دستياب ہے۔ کتاب کا سرورق، عقبي کور، فہرست مضامين شامل ہيں۔ ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدير خان صاحب، جناب رضا علی عابدي اور ڈاکٹر معين الدين عقيل صاحب کے تبصرے بھي زير نظر پوسٹ کے ہمراہ منسلک ہيں۔

کتاب کی تعارف تقریب جناب عقیل عباس جعفری کی سرپرستی میں حلقہ ارباب ذوق کراچی آرٹس کونسل میں 15 جولائی 2012 کو منعقد کی گئی۔ روزنامہ امت کی رپورٹ بھی شامل کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ جناب ابن صفی کی برسی کے موقع پر کتاب پر جناب امجد اسلام امجد کا 26 جولائی 2012 کو روزنامی ایکسپریس لاہور میں شائع ہونے والا تعارفی کالم بھی زیر نظر فولڈر میں شامل کیا گیا گیا۔

حضرت علامہ طالب جوہری کی ابن صفی کے ہمراہ ایک یادگار تصویر کتاب میں شامل ہے۔ اسی سلسلے میں علامہ صاحب سے 27 جولائی، 2012 کو ایک ملاقات میں محفوظ کی گئی چند تصاویر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

قيمت: 500 – رعايت: 33 فيصد
صفحات: 384 – ابن صفی کی چند یادگار تصاویر کے ہمراہ
ناشر: بزم تخليق ادب، کراچي
پوسٹ بکس نمبر 17667
کراچي-75300
اي ميل: maerajjami@yahoo.co.uk

0321-8291908

رابطہ نمبر اردو بازار، کراچي
ويلکم بک پورٹ:
021-3639581

فضلي سنز:
021-32212991
021-32629724

لاہور ميں يہ کتاب سرائے پر دستياب ہے، جن کا پتہ يہ ہے:

کتاب سرائے
فرسٹ فلور
الحمد مارکيٹ
غزني اسٹريٹ
اردو بازار لاہور
فون نمبر: 042- 37320318

راولپنڈی و اسلام آباد ميں کچھ دنوں کے بعد يہ “کتاب گھر” پر دستياب ہوگی:

کتاب گھر
اقبال روڈ
کميٹی چوک
راولپنڈی
فون نمبر: 051-5552929

کتاب ميں جو مضامين شامل کيے گئے ہيں ان کے لکھنے والوں ميں ڈاکٹر ابو الخير کشفی، پروفيسر مجنوں گورکھپوری، پروفيسر انوار الحق، جناب رئيس امروپوی، جناب شاعر لکھنوی، جناب عزيز جبران انصاري، جناب شکيل عادل زادہ، جناب مشتاق احمد قريشی، جناب مجاور حسين رضوی (الہ آباد)، جناب سرشار صديقی، جناب احمد صفی (فرزند ابن صفي)، جناب عارف وقار (بي بي سی)، محترمہ زاہدہ حنا، محترمہ بشری رحمان، محترمہ صفيہ صديقي، جناب شاہد منصور،محترمہ ريحانہ لطيف (جناب ابن صفي کي ہمشيرہ)، ڈاکٹر مرزا حامد بيگ، ڈاکٹر خالد جاويد (جامعہ مليہ ميں اردو کے استاد)، جناب عارف اقبال (اردو بک ريويو دلي کے مدير)، جناب ابن سلطان ناروی، جناب شکيل جمالی (الہ اباد ميں ادارہ نکہت سے وابستہ اديب/ابن صفی کے ديرينہ دوست) و ديگر شامل ہيں۔ اس کے علاوہ کتاب ميں جرمنی ميں اردو کي محقق ڈاکٹر کرسٹينا اوسٹرہيلڈ اور ناروے کے پروفيسر فين تھيئسن کے انڑويوز بھی شامل کيے گئے ہيں۔

کتاب کے ليے ابتدائی مضامين تحرير کرنے والوں ميں جناب احمد صفي، جناب محمد حنيف، جناب خرم علي شفيق اور جناب سيد معراج جامي شامل ہيں۔

کتاب کا عنوان فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کا تجويز کردہ ہے۔

کتاب میں جناب ابن صفی کی چند یادگار تصاویر بھی شامل ہیں، ان میں ان کے بچپن کی ایک تصویر بھی شامل کی گئی ہے۔ دیگر تصاویر میں ابن صفی کے والدین، ان کے اہل خانہ کی تصویریں موجود ہیں۔  اس کے علاوہ علامہ طالب جوہری کے ہمراہ ایک نایاب تصویر بھی شامل ہے۔

کتاب میں فلم دھماکہ کے پرڈیوسر مولانا ہپی کی ایک حالیہ تصویر ہے جو چالیس برس کے طویل عرصے بعد زیر تذکرہ کتاب کے ذریعے پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے ہیں۔

زير نظر کتاب کو مرتب کيے جانے کے سلسلے ميں کچھ ايسے لوگوں نے کرم فرمائی سے نوازا جن کي مدد کے بغير يہ کام کرنا ناممکن ہوتا۔ ان ميں سرفہرست جناب احمد صفي اور جناب محمد حنيف ہيں۔ احمد صفي صاحب نے کتاب کے آغاز ميں شموليت کے ليے ايک ايسا مضمون تحرير کيا جسے جناب ابن صفي کے پرستار اپني آنکھيں نم کيے بغير نہيں پڑھ سکتے۔ حنيف صاحب نے کتاب کے ليے انگريزی سے ابن صفي کا تعارف اردو ميں منتقل کيا۔جناب شکيل عادل زادہ کی عنايات مجھ حقير پر رہيں، سيد معراج جامي صاحب نے بحيثيت ناشر نہيں بلکہ ابن صفي کے ايک پرستار کی صورت اس کام ميں غير معمولي دلچسپي لي۔کتاب کے حواشي سخت محنت کے بعد مرتب کيے گئے ہيں۔اس دوران کتاب ميں شامل چند مضامين کے جن مصنفين نے مطلوبہ معلومات فراہم کيں ان ميں جناب مشتاق احمد قريشي ، جناب شاہد منصور ، جناب ايچ اقبال، محترمہ زاہدہ حنا اور لاہور سے جناب عارف وقار اورجناب حسن نثار شامل ہيں۔ ادھر ممبئی سے اکرم الہ آبادي مرحوم کي صاحبزادي ناہيد خاتون ، دلي سے محترم عباس حسيني کے صاحبزادے جناب اعجاز حيدررضوي ، الہ آباد سے پروفيسر مجاور حسين رضوي، جناب کمال احمد رضوي (الف نون), حيدرآباد يونيورسٹي دکن کے سابق پروفيسر رحمت اللہ يوسف زئی، دکن سے برقي جريدہ سمت کے مدير جناب اعجاز عبيد اور الہ آباد سے جناب چودھري ابن النصير نے مطلوبہ معلومات کي فراہمی ميں بے مثال تعاون کيا۔ بريڈ فورڈ ميں مقيم بزرگ افسانہ نگار جناب مقصود الہی شيخ اور حيدرآباد دکن ميں ماہنامہ قومی زبان کے مدير جناب ارشد زبيری نے چند مطلوبہ فائلز ارسال کيں۔ اللہ تعالي ان سب کو جزائے خير عطاء فرمائے۔

اس موقع پر ميں محترم ڈاکٹر عبدالقدير خان (ايٹمي پروگرام کے خالق )،ڈاکٹر معين الدين عقيل ممبئی کے فلمي کہانی کار و مکالمہ نويس جاويد صديقی اورصاحب طرز قلمکار جناب رضا علي عابدی کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی گراں قدر آرا سے نوازا۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل نے خاکسار کی خصوصی فرمائش پر کتاب کے لیے تبصرہ ارسال کیا تھا، آج ان کا پیغام آیا ہے، کہتے ہیں:
عزیزم راشد اشرف صاحب
تو گویا آپ کا خلوص، آپ کی لگن اور ساتھ ہی محنت و سلیقہ رنگ لے ہی آیا۔
مرحوم کی روح کو کس قدر قرار آیا ہوگا! کاش ہماری قوم زندہ ہوتی تو ایسے افراد اپنی زندگی ہی میں پذیرائی حاصل کرلیتے۔ اور انھیں اگر کوئی انعام نہ بھی ملتا مگر ایک طمانیت کے احساس کے ساتھ تو رخصت ہوتے۔
آپ کو مبارک ہو، صد مبارک، کہ آپ نے اپنا حق ادا کیا۔
معین الدین عقیل

ایک دوست نے پوچھا کہ اس کی تقریب رونمائی کب کروارہے ہیں ?
عرض کیا کہ بھائی!
یہ تو بڑے لوگوں کے کرنے کے کام ہیں، کتاب کی رونمائی کس شان سے ہوتی ہے، یہ ہم
دیکھتے آئے ہیں — لیکن درون خانہ وہی ہوتا کہ بقول مشفق خواجہ “دو سو گرام کاغذ پر دس گرام کی بات” —– لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ لکھنے والے سبھی نامی گرامی اور ابن صفی لکھ کر اس ادبی ناانصافی کی تلافی کر گئے جو آج سے عرصہ تین برس قبل تک ان سے روا رکھی جاتی رہی تھی (اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے)
میں نے ان سے کہا، آپ سے بھی کہتا ہوں کہ کوئی بھی یہ کام کرتا تو قبولیت کی سند پاتا کہ ابن صفی صاحب سے محبت کرنے والے آج بھی موجود ہیں۔ شاد اس بات پر ہوں کہ یہ کتاب میں شامل نوے فیصد مضامین ستر اور اسی کی دہائی میں ڈائجسٹوں میں شائع ہوئے تھے اور ڈائجسٹوں کا ریکارڈ تو لائبریریوں میں بھی نہیں ہوتا۔ ڈر تھا کہ وقت کی گرد انہیں مٹا دے گی، خوش ہوں کہ یہ محفوظ ہوگئے۔

اس ملک میں کتاب یا تو دوانہ لکھے یا پھر وہ جس کے پاس دولت کی ریل پیل ہو، آبادی اٹھارہ کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ خواندہ کو مطالعے سے رغبت نہیں رہی، کتابیں خریدنے کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ ہزار میں سے کسی ایک گھر میں کتابیں خریدنے کا بجٹ رکھا جاتا ہو۔ ادھر الیکٹرونک میڈیا نے مطالعے کا بہت سا وقت غصب کرلیا ہے۔ کتاب مرتب کرتے وقت ایک دھڑکا سا لگا رہتا تھا کہ دیدہ ریزی سے لے کر بسا اوقات چند مضامین کی کمپوزنگ بھی خود ہی کرتا رہا تھا۔۔۔۔ جیسے جیسے وقت قریب آتا رہا، وحشت دوچند ہوتی رہی تھی کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ بات بات میں فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کو زحمت، ای میلیز کا تانتا، موبائل پر ایس ایم ایس کی بھرمار — ادھر یہ رویہ کہ دفتر سے وہ تھکے ہارے رات گئے گھر لوٹتے اور صبح میرے کمپوٹر اسکرین پر مطلوہہ معلومات جگمگا رہی ہوتی تھیں۔
احمد بھائی کے لیے یہ “غم” غم روزگار سے دلفریب ہوا!

کتاب کی تیاری کے دوران یہ کیفیت تھی کہ غلطی رہ جانے پر جاں کنی کی حالت ۔۔۔۔۔۔ ہندوستان سے مطلوبہ معلومات کی آمد ہوتی تھی تو کہیں اکرم الہ آبادی مرحوم کی صاحبزادی سے ممبئی میں ہوئی بات کو مناسب الفاظ میں ڈھالنے کی فکر درپے تھی، دکن سے پروفیسر رحمت یوسف زئی جیسے علم دوست مہربان کی جانب سے ابن صفی صاحب کے 1948 کے نکہت الہ آباد کے دوستوں کے بارے میں معلومات کی آمد کا انتظار ہوتا تھا تو کہیں یہ خیال دامن گیر رہتا تھا کہ کتاب کے دیگر حواشی کی صحت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں تک پہنچنا کتنا مشکل ہے، انہی دنوں معلوم ہوا، اسلام آباد کے ایک صحافی نے تو یہ کہہ کر ہوش اڑا دیے کہ ” میاں! تم فون نمبر کی بات کرتے ہو، سیکیورٹی کا یہ عالم ہے میں تو جہاں وہ رہتے ہیں، وہاں سے گزر بھی نہیں سکتا” —- اپنے پلے ان کا پرانا نمبر تھا جس پر بات ہوتی رہی تھی —— خیر پھر تمام مراحل آسان ہوتے چلے گئے۔ بریڈ فورڈ سے جناب مقصود الہی شیخ نے دو طویل مضامین کی سی ڈیز بھجوا دیں، لیجیے ٹائپ کرنے کی زحمت سے بچے، ادھر دکن کے قومی زبان کے ارشد زبیری صاحب کی مہربانی کی وجہ سے 5 مضامین بنے بنائے ملے۔

غلطی ہوجانے پر اعتبار کا اندیشہ زیاں تھا لیکن چونکہ نان شبینہ زد پر آنے کا احتمال لاحق نہ تھا سو چلتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔ سنا ہے دوانوں کو بخشش کا ایک گداز تو ملا کرتا ہے

يہ بھي ايک اتفاق ہے کہ اس کتاب کو مرتب کيے جانے کے دوران جامعہ کراچي سے ايک مدرس جناب محمد ياسين نے راقم سے مدد کي غرض سے رابطہ کيا ، وہ ايم فل کررہے ہيں اور ان کے انگريزي مقالے کا موضوع ابن صفی ہيں۔ يہ ايک اہم پيش رفت ہے ۔ مجھے اس بات پر کامل يقين ہے کہ آنے والے وقت ميں جناب ابن صفي کي ہمہ جہت شخصيت اور ان کے فن پر مزيد تحقيقي کاموں کا آغاز ہوگا۔

خير انديش
راشد اشرف

Rashid Ashraf: zest70pk@gmail.com

Ibne Safi In Karachi Literature Festival-2012

Rashid Ashraf-zest70pk@gmail.com

مذاکرے کا مفصل احوال تصاویر کے اختتام پر پڑھیے

برٹش کونسل، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور ڈاکٹر آصف فرخی کے زیر  اہتمام کراچی لٹریچر فیسٹویل 11 اور 12 فروری کو منعقد کیا گیا۔ اس مرتبہ جناب ابن صفی کے فن اور شخصیت پر ایک پینل ڈسکشن رکھا گیا۔ شرکاء میں جناب احمد صفی، ڈاکٹر خالد جاوید (دہلی)، ڈاکٹر شیر شاہ سید اور شکیل عادل زادہ شامل تھے۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں جناب ابن صفی پر منعقدہ مذاکرے کی مکمل رپورٹ پیش خدمت ہے: (تحریر: راشد اشرف)

کراچی لٹریچر فیسٹیول ہفتہ اور اتوار 2012 کے روز اپنی تمام تر رونقیں بکھیرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ جمعے کی رات ڈاکٹر آصف فرخی کی دعوت پر فیسٹیول کے شرکاء کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔ مشاہیر ادب کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور فلم سے وابستہ کئی چہرے بھی نظر آئے جن میں زیبا بختیار، راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی شامل تھے۔ دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر خالد جاوید سے ملاقات کروا کر ڈاکٹر آصف فرخی نے ہم پر گویا ایک احسان کیا، دو گھنٹے خالد صاحب اور میں، اپنے پسندیدہ موضوع یعنی ابن صفی پر بات کرتے رہے۔


آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،برٹش کونسل اور ڈاکٹر آصف فرخی کی کوششوں سے اس رنگا رنگ میلے کا انعقاد گزشتہ تین برس سے جاری ہے۔ اس مرتبہ کل 136 مہمانوں کو دنیا بھر سے مدعو کیا گیا تھا۔ دو روز تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں مذاکرے، مباحثے، کتابوں کی نمائش و رونمائی، موسیقی کا اہتمام کیا گیا جبکہ پہلے روز شام کے وقت مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ ادبی میلے میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، انڈیا اور پاکستان سے ادیب، دانشور اور شعراء نے شرکت کی۔ کتابوں پرگفتگو ہوئی، لکھنے اور پڑھنے والوں کے درمیان ربط بھی پیدا ہوا۔ میلے کے دوران ادبی و عصر حاضر کے موضوعات پر تھیٹر بھی پیش کیا گیا۔


عشائیے کے دوران برطانیہ سے آئی بے نظیر بھٹو کی ہم جماعت وکٹوریہ شوفیلڈ کو اخباری نمائندوں نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہی تھیں کہ اس ادبی میلے میں شرکت اور مقامی لوگوں سے مل کر پاکستان اور یہاں کے باشندوں کے متعلق وہ منفی تاثر ختم ہوگیا جو عالمی سطح پر موجود ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف روایتی پروپیگنڈا ہے۔ پاکستانی کھلے ذہن کے مالک اور فراخ دل ہیں۔ مطالعہ کے شوقین ہیں، ملنسار اور خوش اخلاق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ پھر انہیں یہاں آنے کی دعوت دی گئی تو وہ پاکستان آنے سے بالکل نہیں ہچکچائیں گی


آرٹس کونسل کے سربراہ احمد شاہ نے یہ عندیہ دیا کہ آئندہ برس کراچی لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد

میں آرٹس کونسل کا تعاون بھی شامل ہوگا۔


فیسٹیول میں اس مرتبہ انگریزی لکھنے والے ادیبوں میں وکرم سیٹھ، شوبھا ڈے، بینا شاہ، اناتول لیوین، ایم ایچ نقوی، عائشہ جلال، منیزہ نقوی، احمد رشید، کاملہ شمسی، محسن حامد وغیرہ نے شرکت کی۔جب کہ اردو کے ادیبوں میں انتظار حسین، عارفہ سیدہ زہرہ، عطیہ داؤد, زہرہ نگاہ، کشور ناہید، زاہدہ حنا، فہمیدہ ریاض، افتخار عارف، فاطمہ حسن، پروفیسر سحر انصاری و دیگر شامل تھے۔

ادبی میلے کے پہلے روز شام پانچ بجے جناب ابن صفی پر ایک مذاکرہ منعقد کیا گیا ۔ ابن صفی برصغیرپاک و ہند کے سری ادب کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ نقادوں اور ادب کے علمبرداروں نے انہیں ’ادب عالیہ ‘ میں کبھی شمار نہیں کیا لیکن اب یہ برف پگھل رہی ہے اور ادب میں ان کو ان کا جائز مقام دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔

اس ضمن میں ابن صفی اپنے ایک مضمون میں کہتے ہیں

مجھے اس وقت بڑی ہنسی آتی ہے جب آرٹ اور ثقافت کے علمبردار مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ادبکی بھی کچھ خدمت کروں۔ان کی دانست میں شاید میں جھک مار رہا ہوں۔ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی نہ کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔ لیکن میرا طریقِ کار ہمیشہ عام روش سے الگ تھلگ رہا ہے۔ میں بہت زیادہ اونچی باتوں اور ایک ہزار کے ایڈیشن تک محدود رہ جانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے احباب کا اعلیٰ و ارفع ادب کتنے ہاتھوں تک پہنچتا ہے اور انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کس قسم کا انقلاب لاتا ہے۔افسانوی ادب خواہ کسی پائے کا ہو محض ذہنی فرار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی معیار کی تفریح فراہم کرنا ہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ جس طرح فٹ بال کا کھلاڑی شطرنج سے نہیں بہل سکتا۔ اسی طرح ہماری سوسائٹی کے ایک بہتبرے حصّے کے لئے اعلیٰ ترین افسانوی ادب قطعی بے معنی ہے۔ تو پھر میں گنے چنے ڈرائنگ روموں کے لئے کیوں لکھوں؟ میں اسی انداز میں کیوں نہ لکھوں جسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ شاید اسی بہانے عوام تک کچھ اونچی باتیں بھی پہنچ جائیں۔بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947میں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر خون بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آ گئے اور چیخنا شروع کر دیا۔ ’’یہ نہ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بہت برا ہوا۔‘‘ لیکن ہوا کیوں؟ تم تو بہت پہلے سے یہی چیختے رہے تھے۔ تمہارے گیت دیوانگی کے اِس طوفان کو کیوں نہ روک سکے۔

میں سوچتا… سوچتا رہا۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہو گا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام سیکھے۔ اور جاسوسی ناول کی راہ میں نے اِسی لئے منتخب کی تھی۔ تھکے ہارے ذہنوں کے لئے تفریح بھی مہیا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لئے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔


مذاکرے کے شرکاء میں جامعہ ملیہ دہلی کے ڈاکٹر خالد جاوید، فرزند ابن صفی جناب احمد صفی، جناب شکیل عادل زادہ اور ڈاکٹر شیر شاہ سید شامل تھے جبکہ صدارت کے فرائض ادیب و مترجم بلال تنویر نے سرانجام دیے۔


جناب احمد صفی نے حاضرین کو بتایا کہ ’’جاسوسی ادب کو ہمیشہ ہی سے پلپ فکشن

Pulp fiction

کے  زمرے میں ہی شمار کیا جاتا رہا ہے، محقق و ادیب خرم علی شفیق نے اسے جمہوری ادب کا نا م دیا ہے یعنی وہ ادب جس کے پڑھنے والوں معاشرے کا ہر طبقہ شامل رہا ہے۔ ایک پان والے سے لے کر ڈاکٹر ابو الخیر کشفی بھی ابن صفی کے پڑھنے والوں میں شامل رہے ہیں.  جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ ابن صفی کے پڑھنے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر ، ادبی شخصیات غرضیکہ ہر طبقہ ہائے زندگی کے لوگ شامل تھے۔

‘‘ایک سوال ہمیشہ سے ذہن میں اٹھتا ہے کہ پلپ فکشن یا مقبول عوامی ادب تو معاشرے کے ایک خاص طبقے ہی میں پڑھا جاتا ہے اور اسی میں ختم ہو جاتا ہے۔ اہل علم و فراست اس پر توجہ نہیں دیتے تو پھر کیا ابن صفی کے ادب کو پلپ فکشن کہا جا سکتا ہے؟ ان کے پڑھنے والوں میں رکشہ ٹیکسی والے سے لے کر علماء، ادیب، دانشور اور شعراء سب ہی شامل ہیں۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ ان کے پڑھنے والوں کا اسپیکٹرم بہت وسیع ہے۔ تو ایسے ادب کو کوئی اور نام دینا پڑے گا۔ ممتاز محقق خرم علی شفیق ایسے ادب کو جسے معاشرے کے ہر طبقے میں پذیرائی حاصل ہو جمہوری ادب قرار دیتے ہیں اور ابن صفی کو سر سید، مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کے سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں۔


گفتگو کے دوران ایک موقع پر احمد صفی نے حاضرین میں تشریف فرما محترمہ زاہدہ حنا کا خصوصی ذکر کیا کہ وہ ابن صفی کو پڑھنے والوں میں سے ہیں اور وقت نکال کر یہاں تشریف لائی ہیں


فزیشن و سرجن ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک جانے پہچانے افسانہ نگار بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ’ پاکستان نیشنل فورم آن وومین ہیلتھ‘ کے صدر کے عہدے پر بھی فائز ہیں .ڈاکٹر شیر شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا


’’ میں 2005 کے زلزلے کے بعد رفاہ عامہ کے کام کے لیے شمالی علاقاجات میں گیا تھا۔ مانسہرہ میں ہمارا پڑاؤ تھا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، ہم آپ کوقریب واقع ایک چھوٹے سے شہر بفہ میں لے چلتے ہیں، یہ شہر ترکوں کا آباد کیا ہوا ہے اور مانسہرہ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ شہر میں داخل ہوتے وقت میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا کہ یہاں ابن صفی کے ناول کرایے پر ملتے ہیں، یہ سٹی ہال کی لائبریر ی کی جانب سے آویزاں کیا گیا تھا جہاں ابن صفی کے ناول کثیر تعداد میں دستیاب تھے۔ ہم جب تک وہاں رہے، فرصت کے اوقات میں لائبریری سے ناول لے کر پڑھتے رہے۔

مجھ سے بڑے دو بھائی تھے جو ابن صفی کے ناول چھپ چھپ کر پڑھا کرتے تھے اس لیے کہ والدہ صاحب کی طرف سے ناول پڑھنے پر پابندی تھی۔ یہ پابندی اس وقت ختم ہوگئی جب ہماری والدہ نے خود ایک مرتبہ ابن صفی کا ناول پڑھا اور ہمیں انہیں پڑھنے کی بخوشی اجازت دے دی۔ میں نے ناظم شہر کراچی سے کئی مرتبہ کہا کہ (کسی سڑک یا فلائی اوور کا نام ضرور ابن صفی کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔) آپ اتنے بڑے بڑے فلائی اوور اور پُل بنا رہے ہیں کچھ پیسہ اس شہر میں لائیبریریاں بنانے پر خرچ کریں۔ لائیبریریاں بنائیے اور اس میں ابن صفی کی کتابیں بھر دیجیئے۔ مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ پُل بنانا بہت آسان ہے، لائبریری بنانا بہت مشکل۔ میں جب کبھی بھی کسی دورے پر جاتا ہوں، ابن صفی کے ناولز ضرور میرے ساتھ ہوتے ہیں۔

‘‘

جناب شکیل عادل زادہ ایک نامور ادیب ہیں، سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر کی حیثیت سے ان کی شہرت مسلمہ ہے، اردو زبان پر گرفت ہے اور اس کی تمام نزاکتوں سے بخوبی واقف ہیں۔شکیل عادل زادہ نے دوران گفتگو ابن صفی سے متعلق ایک واقعہ سنایا


’’ سن ستر کے اواخر کی بات ہے، میں اس وقت ایک رسالہ نکالا کرتا تھا جس کی اشاعت بڑھانے کی خاطر یہ سوچا کہ کیوں نہ ابن صفی سے کچھ لکھوایا جائے۔ ابن صفی بہت مشکل سے راضی ہوئے اور رسالے کے لیے ایک سلسلے وار کہانی اب تک تھی کہاں کا آغاز کیا لیکن ایک قسط کے بعد بوجوہ لکھنا بند کردیا۔ جواباً میں نے الف لیلہ کے خاص نمبر کے لیے ابن صفی کے خلاف ایک مضمون لکھ کر مدیر کو روانہ کردیا۔ مضمون تو نہ چھپا لیکن چند روز بعد ابن صفی اپنی صاحبزادی کی شادی کا دعوت نامہ دینے کی غرض سے میرے گھر آئے اور کہا مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے ناراض ہو لیکن شادی میں ضرور آنا۔ یہ ان کی بڑائی تھی اور میں اس بات سے بہت متاثر ہؤا۔

‘‘

شکیل عادہ زادہ نے مزید کہا کہ’’ مجھے یاد ہے کہ جس روز ابن صفی کا نیا ناول شائع ہوتا تھا، اس روز صدر کے علاقے ریگل میں صبح ہی سے شور بپا ہوجایا کرتا تھا اور ہمیں شام کو پتہ چلتا تھا کہ چودہ ہزار کاپیاں آئیں اور ختم بھی ہوگئیں۔ ابن صفی ایک یکتا و نادر روزگار شخصیت تھے، ان کی تحریر میں روانی، شوخی اور شگفتگی تھی۔ پاکستان میں ادب کے ناخداؤں نے کم تر اور برتر ادب کی درجہ بندی کی ہوئی ہے اور جاسوسی ناول نگاری کو یہ لوگ ادب میں شمار نہیں کرتے یا پھر کم تر ادب میں شمار کرتے ہیں جبکہ یورپ میں یہ صورتحال نہیں ہے۔ کوئی ادب، اعلی ادب نہیں ہوتا بلکہ اس کی پیشکش اسے اعلی بناتی ہے۔


جامعہ ملیہ دہلی کے استاد ڈاکٹر خالد جاوید اس مذاکرے میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ ڈاکٹر خالد ہندوستان میں اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔حال ہی میں ان کا ناول ’موت کی کتاب‘ شائع ہوا ہے جس نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر خالد نے ابن صفی پر ’ ابن صفی ۔چند معروضات‘ کے عنوان سے 2006 میں ایک اہم مضمون تحریر کیا تھا جس کی اشاعت کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں ابن صفی کے فن اور شخصیت پر تحقیقی کام کی باضابطہ شروعات ہوئی۔ تقریب سے ایک روز قبل دوران عشائیہ ڈاکٹر خالد نے راقم الحروف کو بتایا کہ انہوں نے پانچ برس کی عمر سے ابن صفی کو ’سننا ‘شروع کیا تھا، ان کے والد انہیں رات کے وقت ابن صفی کے ناول پڑھ کر سنایا کرتے تھے جو بقول ان کے ر فتہ رفتہ ان کے خون میں شامل ہوتے چلے گئے۔

مذاکرے میں ڈاکٹر خالد جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا


’’ جب تک کسی تحریر میں ادبی چاشنی نہ ہو ، وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ عموما روایتی لکھنے والے کو اپنے قاری کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا اور وہ ایک ۔’پروڈکٹ‘ کی شکل میں اپنی تخلیقات کا ڈھیر لگاتا چلا جاتا ہے جبکہ سنجیدہ لکھنے والا اپنے قاری کی پسند و نا پسند کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتا ہے۔ ابن صفی کو اس بات کا مکمل ادراک تھا۔ ہم دیکھ رہے ہیں اب ابن صفی کی تحریروں کا ایک نیا جنم ہورہا ہے۔ ہندوستان میں عارف مارہروی،مسعود جاوید، انجم عرشی، جمیل انجم، اظہار اثر اور اکرم الہ آبادی نے ابن صفی کے اسلوب کی نقل کی لیکن آج ان لوگوں کی تحریروں سے کوئی واقف نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران کا کردار ایسا تھا جس نے ابن صفی کو لازوال بنا دیا۔عمران کے کردار میں حماقت کا فلسفہ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ابھر کر سامنے آتا ہے، اگر ہم غور کریں تو ملا نصیر الدین کے کی ہر داستان کا آغاز بھی کسی حماقت ہی سے ہوتا ہے، اسی طرح 1509 ء میں ایک ولندیزی فلسفی ڈیزیڈیریس اراسمس نے

In Praise oF Folly

نامی کتاب میں حماقت کے فلسفے کو بیان کیا ہے،۔ عمران کے کردار کی حماقت کا موازنہ باآسانی کامیو کی

Nothingness

کافکا کی

Absurdity

Redundancy اور سارتر کی

سے کیا جاسکتا ہے۔ ان مثالوں کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حماقت کا بھی ایک تاریخی پس منظر ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب جامعہ ملیہ دہلی میں کوئی طالب علم ابن صفی پر تحقیق کام کرنے کی خواہش ظاہر کرتا تھا تو اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی، اس سلسلے میں میں (خالد جاوید) نے ’بورڈ آف اسٹڈیز ‘میں خاصی بحث و مباحثے کے بعد ابن صفی پر تحقیقی کام شروع کرانے کی منظوری حاصل کی اور اب جامعہ ملیہ میں میری زیر نگرانی ایک ایم فل اور ایک پی ایچ ڈی کے مقالے پر کام ہورہا ہے۔ یہ اطلاع بھی آپ کے لیے اہم ہوگی کہ بات اب جامعہ ملیہ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ دیگر جامعات میں بھی ابن صفی پر تحقیق کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ دہلی یونیورسٹی اور حیدرآباد دکن میں اس پر کام کیا جارہا ہے۔ ہندوستان میں بھی ’ادب عالیہ ‘ کے مارے ایسے ادیب موجود ہیں جو ابن صفی کو تسلیم نہیں کرتے، اس ضمن میں راجندر یادو کی مثال پیش کروں گا جنہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بڑا ادب وہ ہے جسے لوگ بار بار پڑھیں، اس پر انٹرویو کرنے والے نے کہا کہ بار بار تو ہم ابن صفی کو پڑھتے ہیں، جواب میں راجندر یادو بولے کہ ہم ان کا ایک ہی ناول بار بار نہیں پڑھ سکتے۔۔۔‘‘


مذاکرے کے اختتام پر حاضرین نے احمد صفی سے مختلف سوالات کیے۔ خاتون حنا جاوید نے ابن صفی کی شاعری اور اس کی عدم دستیابی کے بارے دریافت کیا ، احمد صفی نے جواب میں کہا کہ ابن صفی کا پہلا شعری مجموعہ گز شتہ برس شائع ہونا تھا لیکن ان کی (احمد صفی کی)کراچی سے لاہور منتقلی کی وجہ سے یہ کام تاخیر کا شکار ہوگیا اور اب ان کی پوری کوشش ہے کہ یہ مجموعہ جلد از جلدشائع ہوجائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں احمد صفی نے کہا کہ ابن صفی کی بنائی فلم دھماکہ کا کوئی پرنٹ انہیں تاحال نہیں مل سکا ہے، یہ فلم بازار میں دستیاب کہیں دستیاب نہیں ہے، اس سلسلے میں احمد صفی نے راقم الحروف اور جناب محمد حنیف (نگراں کارابن صفی ڈاٹ انفو) کا ذکر کیا کہ یہ لوگ فلم دھماکہ کے حصول کی خاطر کوششیں کررہے ہیں۔

راقم الحروف نے ’ابن صفی۔ایک نئے انداز میں ‘کے عنوان سے منعقد ہوئے اس مذاکرے میں ڈاکٹر خالد جاوید کی گفتگو کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی محفوظ کی جسے تین حصوں میں مندرجہ ذیل لنکس پر دیکھا جاسکتا ہے

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہوگا کہ جناب انتظار حسین نے ہندوستان میں ایک سیمینار میں ابن صفی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور ان کی اس بات پر خاصی لے دے بھی ہوئی تھی بالخصوص گوپی چند نارنگ نے ، جو ابن صفی کے مداح ہیں، اس پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ راقم نے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں اس بارے میں انتظار صاحب سے خصوصی گفتگو کی۔ جناب انتظار حسین اس ضمن میں ایک بیان ریکارڈ کروانے پر رضا مند ہوگئے جس میں انہوں نے ابن صفی کی عظمت کو تسلیم کیا اور اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ اب ابن صفی کو پڑھیں گے۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول کا اختتام ہوا۔ منتظمین کی ہوا کا رخ بدلنے کی ، کتاب سے محبت کی، باہمی تعلقات کو مضبوط تر بنانے کی، وطن عزیز کا دلاآویز اور معتدل چہرہ بیرونی دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی کوششوں کو ہر سطح پر سراہا گیا۔منتظمین کی محنت وصول ہوئی۔ لوگ ایک دوسرے سے رخصت ہوئے، اگلے برس ایک نئے ولولے کے ساتھ اسی جگہ ملاقات کے وعدے کے ساتھ:


ہم   بدلتے   ہیں  رخ  ہواؤں   کا

آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

Ibne Safi-Now in Dehli-2011

دہلی میں 22 اپریل 2011 کی شام ابن صفی کی نذر ہوئی، جاسوسی دنیا کے چار ناولز (ڈاکٹر ڈریڈ سیریز) ادارہ ویسٹ لینڈ اور بلافٹ کے اشتراک سے شائع ہوئے ہیں۔ ان کے مترجم پروفیسر شمس الرحمان فاروقی ہیں۔ تقریب رونمائی کے موقع پر احمد صفی کراچی سے شرکت کے لیے پہنچے۔ ان کے خصوصی تعاون سے یہ تصاویر پیش خدمت ہیں۔

متذکرہ سفر کی روداد حیدرآباد دکن کے ماہنامہ قومی زبان کے ابن صفی نمبر میں اگست 2011 میں شائع ہوئی، مضمون یہاں پڑھا جاسکتا ہے:

http://www.wadi-e-urdu.com/fresh-articles-on-ibne-safi-%E2%80%93-june-july-2010/fresh-articles-on-ibne-safi-2010-onwards/attachment/1-7/

RASHID ASHRAF

zest70pk@gmail.com

Ibne Safi Demise

Rashid Ashraf-zest70pk@gmail.com

دوستو!یہ حقیقت ہے کہ 26 جولائی 1980 کو ہونے والے اس سانحے نے قلب و ذہن کے پیشتر آئینے تاریک کردیے۔ یہ سانحہ تھا برصغیر پاک و ہند کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار جناب ابن صفی کی ناگہانی موت۔ 25 اور 26 جولائی 1980 کی رات صفی صاحب کے اہل خانہ پر بیتنے والے جاں گسل لمحات کی روداد فرزند ابن صفی احمد صفی بیان کرچکے ہیں جس کو راقم الحروف نے اپنے ایک تازہ مضمون “زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا” میں درج کیا ہے، مذکورہ مضمون مندرجہ ذٰل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے:

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=8412

یہاں شامل کردہ تراشوں میں سے بیشتر ہمارے مربی اور صفی صاحب کے ایک سچے پرستار و عاشق جناب محمد حنیف، کی ویب سائٹ ابن صفی ڈاٹ انفو سے لیے گئے ہیں۔ البتہ چند ایسے تراشے ہیں جو فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کے خصوصی تعاون سے یکجا ہوپائے.

زیر نظر فولڈر کے آغاز میں شامل کیے گئے مختلف ہندوستانی اخبارات کے تراشے دہلی سے ہمارے دوست جناب عبدالحئی نے ارسال کیے ہیں۔


Ibne Safi Zinda Hai & Ibne Safi Nay Kaha

Rashid Ashraf

For Feedback:  zest70pk@gmail.com

ابن صفی زندہ ہے:

لگ بھگ تیس صفحات پر مشتمل مذکورہ کتاب جناب ابن صفی کی وفات کے ایک ہفتے بعد منظر عام پر آئی تھی۔ ابن صفی ڈاٹ انفو کے نگراں کار اور ہمارے مربی جناب محمد حنیف صاحب نے حال ہی میں اس گراں قدر تحفے سے نوازا۔ حنیف صاحب یہ کتاب حیدرآباد سے بطور خاص ہمارے لیے لائے تھے۔ کتاب کے مصنف کیپٹن ڈاکٹر سید مظفر سلطان بخاری ہیں جو نواب شاہ میڈیکل کالج میں استاد تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی تلاش میں کئی اشخاص سے رابطہ کیا لیکن کوئی اتا پتا نہ ملا۔ اگر نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے کوئی دوست اس ویب سائٹ کے توسط سے ڈاکٹر صاحب کے بارے میں معلومات یا ان کا فون نمبر اوپر دیے ہوئے ای میل پتے پر دے سکیں تو احسان مند رہوں گا

ابن صفی نے کہا

ابن صفی کے ناولوں کے اقتباسات سے مزین کل 107 صفحات پر مشتمل یہ مختصر کتاب جولائی 1990 میں حبیب پبلیکیشنز، کراچی سے شائع ہوئی۔ اس قیمتی تحفے کی فراہمی کے لیے ہم جناب عقیل عباس جعفری کے شکرگزار ہیں۔

.

Script of Geo Tv Documentary on Ibne Safi-July 24, 2010

Rashid Ashraf

For Feedback: zest70pk@gmail.com

جیو ٹی وی سے 24 جولائی 2010 کو نشر ہونے والے پروگرام “ابن صفی” کے اسکرپٹ کی فراہمی کے لیے ہم جیو ٹی وی کے پروڈیوسر جناب خرم جاوید کے شکر گزار ہیں


Making of Geo Tv Documentary ‘IBNE SAFI”-Aired on July 25, 2010

For Feedback: zest70pk@gmail.com



A Pictorial Tribute To Ibne Safi-2010

Rashid Ashraf

For Feedback: zest70pk@gmail.com

دوستو!
لوگ کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنی کسی بھی کاوش و کوشش کو حقیر گردانتے ہیں کہ یہی انداز عاجزانہ کہلاتا ہے لیکن کیا کروں کہ اپنی اس کوشش کو حقیر کسی صورت نہیں کہہ سکتا۔ یہ کوئی فسانہ کاری یا شاعرانہ خیال آفرینی نہیں، واقعہ یہی ہے ۔۔۔۔ جو کچھ بھی ہے آپ کے سامنے ہے۔ خدا جانے آپ اس کا کیا اثر لیں گے، یہاں تو یہ حال رہا کہ کمپیوٹر سے متعلق جدید داؤ پیچ سے ناواقفیت کی بنا پر ایک چھوٹی گڑیا مریم خان کی مدد شامل حال رہی اور کئی پھیرے وہاں کے لگتے رہے:

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
ایک چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں

اس سادہ سی کاوش کی تکمیل کے سلسلے میں، میں جناب احمد صفی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں

میں اسے جناب ابن صفی کے اہل خانہ، ان کے پرستاروں اور ان کو شدت سے چاہنے والوں کی نذر کرتا ہوں

خیر اندیش
راشد



مرحوم پروفیسر محمد انوار الحق اردو و فارسی کے عالم ہونے کے ساتھ  ساتھ ایم اے ایل ایل بی

A Unique Gift by Ahmad Safi-Rare Pictures of Ibne Safi

Rashid Ashraf

For Feed Back: zest70pk@gmail.com

فرزند ابن صفی محترم احمد صفی کی جانب سے ابن صفی صاحب کے چاہنے والوں کے لیے توشہ خاص – ابن صفی کی چند انتہائی نادر و نایاب تصاویر جو اس سے قبل کبھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ دریں اثناء جناب محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے بھی چند نایاب تصاویر عنایت فرمائیں جو یہاں شامل کی جارہی ہیں.


TITLES

For Feedback: zest70pk@gmail.com
Rashid Ashraf

TITLES OF JASOOSI DUNYA AND IMRAN SERIES – ALLAHABAD AND KARACHI EDITIONS


Fresh Articles on Ibne Safi 2010 Onwards

Administrator: Rashid Ashraf
For Feedback: zest70pk@gmail.com

ریکارڈر کا مضمون
پڑھنے میں دشواری کی صورت میں مندجہ ذیل لنک استعمال کیا جاسکتا ہے:
http://www.brecorder.com/index.php?id=1071237&currPageNo=1&query=&search=&term=&supDate=

M Hanif (www.ibnesafi.info) Tour of Karachi-May 2010

Rashid Ashraf

For Feedback: zest70pk@gmail.com

ابن صفی ڈاٹ انفو کے نگراں کار جناب محمد حنیف مئی 2010 کے مہینے میں کراچی تشریف لائے – ان کی آمد پر فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کے گھر ایک طویل نشست رہی جس میں محقق و ادیب جناب خرم علی شفیق کے علاوہ راقم نے بھی شرکت کی۔ اس نشست میں جناب ابن صفی کی شخصیت و فن کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی جس کے دوران کی گئی ویڈیو ریکارڈنگ کو یہاں دیکھا جاسکتا ہے

http://www.youtube.com/watch?v=glTR9EnphUU

http://www.youtube.com/watch?v=MD5xF5qcmzw

۔ اس نشست کی تصاویر پیش خدمت ہیں


Misc Articles on Ibne Safi

Rashid Ashraf

For Feedback: zest70pk@gmail.com

Misc Articles/Columns/Features on Ibne Safi

Book Excerpts